طالبان قیادت کی تفصیلات ۔ ۔ ۔ کون کیا ہے!

ہیبت اللہ اخونزادہ طالبان نے سپریم لیڈر کے طور پر اس وقت چنا تھا...
اپ ڈیٹ 17 اگست 2021 09:52pm

ہیبت اللہ اخونزادہ ۔ ۔ ۔ سپریم کمانڈر

ہیبت اللہ اخونزادہ کو طالبان نے سپریم لیڈر کے طور پر اس وقت چنا تھا جب ایک ڈرون حملے میں انکے پیشرو ملا منصور ایک امریکی ڈرون حملے میں دوہزار سولہ میں مارے گئے تھے۔

اس عہدے پر منتخب ہونے سے پہلے اخونزادہ ایک عام سے مذہبی رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے ، عام طور پر خیال کیا جاتا ہے طالبان انکی پیروی ایک روحانی رہنما کے طور پر کرتے ہیں بانسبت کے جنگجوسربراہ کہ۔ تحریک طالبان میں سپریم لیڈر منتخب ہونے کے بعد اخونزادہ نے جنگجووں میں اتحاد پیدا کرنے کا اہم کام سرانجام اس وقت دیا جب اپنے پیشرو ملا اختر کے مارےجانے کے بعد تحریک طالبان اپنے اہم رہنماوں میں طاقت کی کشمکش کے باعث تھوڑی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی تھی۔

ملا برادر ۔ ۔ ۔ بانی

قندھار ملابرادر کی جائے پیدائش ہے ، اور یہ یہی علاقہ طالبان کی تحریک کا نقطہ آغاز بھی قرار دیا جاتا ہے۔ دیگر افغانوں کی طرح انکی زندگی بھی انیس سو ستر کی دہائی سے ہی سویت یونین کیخلاف مزاحمت میں گزری ۔ملابردار سے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ملا عمر کے شانہ بشانہ اس دوران مزاحمت میں شریک رہے ۔ انیس سو نوے میں سویت یونین کے انخلا کے بعد افغانستان میں کرپشن اور افراتفری کو ختم کرنے کیلئے ان دونوں طالبان رہنماوں نے تحریک طالبان کی بنیاد رکھی۔

دوہزار دس میں ملابردار کو پاکستان میں زیر حراست لے لیا گیا تھا اور دوہزار اٹھارہ میں ان کو امریکا کے دباو پر آزاد کرکے قطر منتقل کردیا گیا تھا۔ اور وہاں پر ہی ان کو طالبان کے سیاسی دفتر کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا اور انہوں نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے۔

سراج الدین حقانی ۔ ۔ ۔ حقانی نیٹ ورک

سراج الدین حقانی سویت یونین کیخلاف مزاحمت سے شہرت پانے والے جنگجو کمانڈر جلال الدین حقانی کے فرزند ہیں ۔حقانی نیٹ ورک کو امریکا نے بھی دہشت گرد قرار دیا تھا اور یہ نیٹ افغانستان میں نیٹو اور افغان فوجیوں کیخلاف مزاحمت کے باعث طالبان میں خطرناک ترین شمار کیا جاتا ہے۔ اپنے جذبہ آزادی، لڑاکا صلاحیتوں اور کاروباری معاہدوں کی وجہ سے مشہور حقانی نیٹ ورک کے بار میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے طالبان رہنماوں کی کونسل پر واضح اثرورسوخ رکھتے ہوئے مشرقی افغانستان کے چٹیل پہاڑوں آپریشن سرانجام دیئے ہیں۔

ملاعمر کے بیٹے ۔ ۔ ۔ ملا یعقوب ۔ ۔ ۔

ملایعقوب طالبان کے سابق امیر ملاعمر کے فرزند ہیں اور وہ طالبان کی طاقتور ملٹری کمیشن گروپ کے سربراہ کی حیثیت سے کام سرانجام دیتے ہیں ۔ یہ مزاحمت کاری میں اہم نوعیت کے اسٹریٹیجک آپریشن کرنے کے کام سرانجام دیتا ہے اور یہ کمیشن فیلڈ میں کارروائی سرانجام دینے والے کمانڈرز پر مشتمل ہے۔ ملا عمر سے رشتے کے سبب ملایعقوب کی شخصیت نے ایک طاقتور علامت کے طور پر طالبان تحریک کو یکجہا رکھنے کا کام سرانجام دیا ہے۔

Source: AFP