'افغان مسئلے کا حل مذاکرات سے ممکن '

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمان نے کہا ہے کہ...
شائع 11 اگست 2021 08:27pm

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمان نے کہا ہے کہ افغانستان مسئلےکاحل مذاکرات کےذریعےہی ممکن ہے۔

بیان میں مولانافضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت ہرمحاذ پر ناکام ہے،ملک اس وقت خطرناک حالات سےدوچارہے۔

مولانافضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کےعوام کوتاریخی مہنگائی کا سامناہے، 21اگست کواسلام آباد میں اسٹیئرنگ کمیٹی کااجلاس ہوگا۔

مولانافضل الرحمان نے مزید کہا کہ 28اگست کوکراچی میں سربراہی اجلاس ہوگا، اجلاس میں اسٹیئرنگ کمیٹی کےفیصلوں پرغورہوگا۔

دوسری جانب افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے اور ملک میں کئی صوبوں کے دارالحکومت پر طالبان نے کنٹرول حاصل کرلیا ہے جب کہ طالبان کی دارالحکومت کابل کی طرف بھی پیش قدمی جاری ہے۔

صوبے فاراہ، ،بدخشاں ، بغلان ،نمروز ،جوزجان، قندوز، سرائے پل، تخار اورسمنگان پرطالبان کا قبضہ ہے جب کہ ایبک، قندوز، تالقان، شبرغان او ر زَرنج بھی طالبان کے زیر قبضہ آچکے ہیں۔

بھارت نے قندھار کے بعد افغان شہر مزار شریف سے بھی قونصل خانے کے عملے اور شہریوں کو واپسی کی ہدایت کردی جبکہ قونصل خانے کو بھی بند کردیا گیا ہے۔ امریکا کے صدر جو بائیڈن نے افغان رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف متحد ہو کر لڑیں۔

صدر جوبائیڈن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے، افغان حکومت کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔