قومی اسمبلی اجلاس، حکومتی ارکان کی اٹھارہویں ترمیم پر تنقید
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اٹھارویں ترمیم پر حکومتی ارکان نے شدید تنقید کی ہے، دوران محرم اجلاس چلانے پربھی اپوزیشن اورحکومت ارکان نے شدید احتجاج کیا اور پینل آف دی چیئر کی جانب سے تمام ارکان کو بات کرنے کا موقع دینے پراجلاس بغیرکورم کے چلتا رہا ۔
قومی اسمبلی کا اجلاس پینل آف چیئرمین کے رکن امجد خان نیازی کی زیرصدارت ہوا ۔
محرم میں قومی اسمبلی کا اجلاس رکھنے پر اعتراض اٹھایا ۔ ن لیگ کے میاں ریاض پیر زادہ اور نزہت پٹھان نے کہا محرم عبادت کا مہینہ ہے اس میں عاشورہ تک تو اجلاس نہیں ہونا چاہئے۔
1965 اور 71 کی پاک بھارت جنگوں کے بعد متاثرہ لوگوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیرمملکت علی محمد خان نے کہا کوئی پاکستانی پاکستان کے کسی بھی علاقے میں زمین خرید سکتا ہے۔
پیپلزپارٹی کے نوید قمر کی جانب سے یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پیش کیے گئے توجہ دلاونوٹس کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری تجارت عالیہ حمزہ ملک نے بتایا کہ حکومت نے یوٹیلیٹی سٹورز پر قیمتیں کم رکھنے کے لئے تیس ارب روپے کی سبسٹڈی دی ہے۔
حکومتی رکن عاصمہ حدید نے کہا کہ حکومت کوئی کام کرنا چاہے تو 18 وین ترمیم آڑے آجاتی ہے،حکومت 18 ویں ترمیم کو ترمیم کو پالش کرے۔
حکومتی رکن آفتاب جہانگیر نے کہا کہ اپنے حلقے کی بات کریں تو اٹھارویں ترمیم آڑے آجاتی ہے ۔قومی اسمبلی کا اجلاس کل صبح گیارہ بجے پھر ہوگا ۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔