سپریم کورٹ میں سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد علی مظہرکی تعیناتی کی مخالفت
پاکستان بارکونسل نے سپریم کورٹ میں سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد علی مظہرکی تعیناتی کی مخالفت کردی ۔
ملک بھرکی بارکونسلزکی متفقہ قراردارمیں کہا گیا ہے پارلیمانی کمیٹی برائے ججزتقرری جسٹس محمد علی مظہر کی تعیناتی منظورنا کرے، جوڈیشل کمیشن ججزتعیناتی کے لیے شفاف اورغیرجانبدارطریقہ کاربنائے،بار کونسلز سینیارٹی کے اصول اورمیرٹ کے لیے تمام اقدامات کرے گا ۔
ملک بھر کی بار کونسلز کی قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالتوں میں تمام تعیناتیاں سینیارٹی اصول کومد نظررکھ کی جائیں۔ پاکستان بارسندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی سپریم کورٹ تعیناتی کی مخالفت کرتی ہے،پاکستان بار سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کی تعیناتی کے بھی مخالف ہے ۔ پارلیمنٹ اورسیاسی جماعتیں19 آئینی ترمیم ختم کریں ۔ پاکستان بارکونسل کے اجلاس میں ملک بھر کی بارکونسلزکی ججزکی تقرری کے حوالے سے قرارداد منظورکرلی گئی۔
قرارداد میں کہا گیا ہے پاکستان بارکونسل احتجاجا" جسٹس مشیرعالم کے لیے الوداعی ڈنرکا انعقاد نہیں کرے گی، جوڈیشل کمیشن اپنے رولزمیں ترمیم کے لیے فوری اجلاس بلائے، تمام عدالتوں کے رجسٹرار سول سروس کے بجائے عدلیہ میں سے لگائے جائیں، ججز کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں کسی عہدے پرتعینات ،نا ہی ایکسٹینشن دی جائے۔
بعدازاں پاکستان بار کونسل کے وائس چئیرمین خوشدل خان نے میڈیا سے گفتگومیں کہا وکلاء برادری سینیارٹی کے اصولوں کو نظر انداز ہونے نہیں دے گی ۔ پاکستان بار کونسل نے ججزکی تعیناتی پرآل پاکستان وکلاء کنونشن بلانے کا اعلان بھی کیا، اور واضح کیا کہ ججز تقرری کے طریقہ کارکوشفاف نا بنایا گیا تو وکلاء ریفرنسز بھی دائرکریں گے ۔












اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔