عثمان مرزا کیس،ملزم کارڈیلر اور پراپرٹی کا بزنس کرتاہے،پولیس

عثمان مرزا کیس کے حوالے سے ڈی آئی جی آپریشنزکا کہنا ہے کوشش ہے...
شائع 14 جولائ 2021 07:27pm

عثمان مرزا کیس کے حوالے سے ڈی آئی جی آپریشنزکا کہنا ہے کوشش ہے جلد اس معاملے کو حل کریں تاہم کچھ لیبارٹریز سے رپورٹس آنے میں دیر لگتی ہے ،

ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کو بتایا وکٹم کو ہر قسم کی سیکورٹی دینے کو تیار ہیں لیکن وہ یہاں آنے کوتیار نہیں ،

ان کا مزید کہنا تھاکہ سات گرفتاریاں کی جاچکیں ایک کے لیے چھاپے مار رہے ہیں، ملزم بڑا آدمی نہیں پراپرٹی کا بزنس کرتا ہے اورکار ڈیلر ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چئیرمین کمیٹی محسن عزیز کی زیر صدارت ہوا۔

کمیٹی میں عثمان مرزا کیس پر ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کیس میں دفعہ 354 لگائی جس میں سزائے موت اور عمرقید بھی ہوسکتی ہے۔ وکٹم یہاں آنے کو تیارنہیں ، ہم ان کو سیکورٹی فراہم کرنے کو تیار ہیں لیکن وہ سامنے آنے کوتیار ہی نہیں۔

پولیس حکام کے مطابق ہماری حراست میں سات لوگ ہیں ایک کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں ، یہ بندہ کوئی بہت بڑا آدمی نہیں ، پراپرٹی کا بزنس کرتا ہے اور کار ڈیلر ہے۔

چئیرمین کمیٹی کا کہنا تھا ہم چاہتے ہیں ان لوگوں کو جو سزائیں ملیں وہ عوام کے سامنے آئیں ، آپ کو بلانے کا مقصد تھا کہ اس کیس کی پراسیکیوشن اتنی زبردست ہوکہ بعد میں ملزمان کو کوئی رستہ نہ ملے۔

ڈی آئی جی آپریشنز افضال کوثر نے بتایا اس کیس کی انویسٹی گیشن سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کررہی ہے، اس کیس میں ٹرائل کی پروسیڈنگ ان کیمرہ ہوگی، کوشش کررہے ہیں کہ جلد سے جلد اس معاملے کو حل کریں لیکن کچھ لیبارٹریز سے رہورٹس آنے میں دیر لگتی ہے۔

چئیرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا ڈی چوک میں ایک شخص نے اسلحہ لہرایا، کیسے وہ شخص نکل کر ریڈ زون میں آ گیا؟ چئیرمین کمیٹی نے ہدایت جاری کی کہ واقعے کی تحقیقات کرکے رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے۔