قومی اسمبلی اجلاس،حکومت اور اپوزیشن کے ایک دوسرے پر الزامات

قومی اسمبلی کے اجلاس میں آزاد کشمیر انتخابات میں پیسے تقسیم ...
شائع 13 جولائ 2021 11:16pm

قومی اسمبلی کے اجلاس میں آزاد کشمیر انتخابات میں پیسے تقسیم کرنے کا معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے ایکدوسرے پر کشمیر پالیسی کے حوالے سے الزامات لگائے گئے ،

وزیرمملکت علی محمد خان کا کہنا تھا کہ آزاد منصفانہ انتخابات آزاد کشمیر کے عوام کا حق ہے ۔

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر کی صدارت میں ہوا، خرم دستگیر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ آج 13 جولائی کو یوم شہداء کشمیر ہے، کشمیریوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات صاف شفاف ہوں، یہاں وفاقی وزراء کہہ رہے ہیں کہ آپ اگر جتوائیں گے تو ایک ووٹ پر ایک کروڑ روپے دیں گے، آزاد جموں کشمیر کے انتخابات صرف کشمیر نہیں پاکستان کا بھی معاملہ ہے،

وزیرمملکت علی محمد خان نے کہا کہ کشمیر کا انتخاب ہم سب کے لیے بہت اہم ہے، کیا آزاد کشمیر کی عوام کا حق نہیں ہے کہ ان کو ایک شفاف حکومت ملے، کوئی پاکستانی کشمیر نہیں بیچ سکتا، ن لیگ والے بتائیں کہ پانچ سال میں کشمیر کو کیا دیا،

علی محمد خان نے کہا کہ پیپلزپارٹی والے بتائیں انہواں نے آزاد کشمیر کو کیا دیا، صرف کرپشن ہی دی ہے اور کچھ نہیں دیا،

عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ان کشمیریوں کو خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کسی کے سامنے نہ جھکے،

احسن اقبال نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ مارچ میں سپریم کورٹ نے پنجاب میں بلدیاتی ادارے بحال کرنے کا فیصلہ دیا جس پر چار ماہ گزرنے کے باوجود عملدرآمد نہیں کیا گیا، ڈپٹی سپیکر نے اسے صوبائی معاملہ قرار دیدیا، اس موقعے پر احسان اللہ ریکی نے تنزانیہ میں پھنسے سترہ پاکستانیوں کو واپس لانے کے انتظامات کا مطالبہ کیا۔

توجہ دلاو نوٹس پر خواجہ شیراز محمود نے کہا کہ ارسا پنجاب کو 1600 ملین کیوسک کی بجائے 5 سو ملین کیوسک پانی فراہم کرکے اس کی حق تلفی کررہا ہے،

پارلیمانی سیکرٹری صالح محمد نے کہا کہ پانی کی قلت ہے جیسے ہی پانی کے ذخائر میں اضافہ ہوگا صوبوں کو پورا پانی فراہم کیا جائے گا ۔