نامعلوم نمبر سے فائیو سٹار ہوٹل کو دہشتگردوں کی اطلاع
بھارت کے ساحلی شہر ممبئی کے علاقے کولابا میں واقع تاج ہوٹل کی انتظامیہ کو موصول ہونے والی ایک فون کال نے انتظامیہ سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دوڑیں لگوادیں۔
تاج ہوٹل کی انتظامیہ کو ایک نامعلوم نمبر سے کال موصول ہوئی کہ ان کے ہوٹل میں دو دہشتگرد داخل ہونے والے ہیں۔ یہ کال سنتے ہی نہ صرف ہوٹل انتظامیہ بلکہ سیکیورٹی فورسز کی بھی دوڑیں لگ گئیں۔
یہ وہی تاج ہوٹل ہے جس پر 26 نومبر 2008 کو بڑا حملہ ہوا تھا جس میں نو حملہ آوروں سمیت 175 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق نامعلوم نمبر سے دہشتگردوں کے داخلے کی اطلاع ملتے ہی ہوٹل انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع کی جس کے بعد بھاری نفری ہوٹل پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ بم ڈسپوزل سکواڈ کی ٹیمیں اور بارودی مواد سونگھنے والے کتے بھی آگئے۔
پورے ہوٹل کی تلاشی بعد جب کچھ نہ ملا تو پولیس نے دہشتگردوں کی جھوٹی اطلاع دینے والے کا سراغ لگایا۔ پتہ چلا کہ مہاراشٹرا کے ضلع ستارا میں رہنے والے نویں کلاس کے طالب علم نے ہوٹل انتظامیہ کے ساتھ مذاق کیا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ طالب علم کے خلاف کوئی کیس رجسٹرڈ نہیں کیا گیا۔
٭ 26/11 کا ممبئی حملہ کیا ہے؟
26 نومبر 2008 کو 10 دہشت گردوں نے ممبئی میں متعدد مقامات پر دہشت گردانہ حملے کیے تھے جن میں 166 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
حملہ آوروں اور سیکیورٹی فورسز میں تین روز تک جاری مقابلے میں 9 حملہ آور مارے گئے تھے اور ایک حملہ آور اجمل قصاب کو زندہ پکڑا گیا تھا۔ اس کے خلاف عدالتی کارروائی چلی اور چار سال بعد اسے پھانسی دے دی گئی۔
بھارت نے الزام عائد کیا کہ حملہ آوروں کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔ اس نے جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ سعید اور ذکی الرحمن لکھوی کو حملوں کا منصوبہ ساز قرار دیا۔ بھارت نے اس حوالے سے پاکستان کو متعدد ڈوزیئر سونپے۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ اس نے حافظ سعید کے خلاف ناقابل تردید شواہد پاکستان کے حوالے کیے ہیں۔
حافظ سعید کے خلاف پاکستان کی انسداد دہشت گردی عدالت میں کارروائی چلی، انھیں کچھ دنوں تک نظربند رکھا گیا۔ اس کے بعد عدالت نے ثبوتوں کے فقدان پر انہیں رہا کر دیا۔
ممبئی حملوں کے سلسلے میں خصوصی استغاثہ کے طور پر پیش ہونے والے اجول نکم نے عدالتی کارروائی میں تاخیر پر حکومت پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا۔
جبکہ پاکستانی عدالتوں کا کہنا ہے کہ بھارت نے صرف اطلاعات فراہم کی ہیں ثبوت نہیں۔ ٹھوس ثبوتوں کے بغیر کسی کے خلاف کیسے کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اس حملے نے بھارت اور پاکستان کے مابین امن عمل کو پٹری سے اتار دیا۔ جامع مذاکرات منقطع ہو گئے اور تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے۔
حکومتِ پاکستان نے اس وقت بیان دیا تھا کہ وہ ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے تک لائے گی۔ ہم کسی بھی قیمت پر دہشت گردی برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم بھارت کے ساتھ پرامن اور دوستانہ تعلقات کے قیام پر زور دیتے ہیں۔
عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت کے قیام کے بعد اور اس سے قبل بھی پاکستان جامع مذاکرات کی تجدید اور بات چیت سے تنازعات کے حل پر زور دیتا رہا ہے۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔