سکھر ڈیویژن میں زائد ٹرین حادثات، تحقیقاتی کمیٹی تشکیل

سکھر ڈویژن میں بار بار ٹرین حادثے کیوں ہوتے ہیں؟ ریلوے کے اعلی...
شائع 08 جون 2021 06:28pm

سکھر ڈویژن میں بار بار ٹرین حادثے کیوں ہوتے ہیں؟ ریلوے کے اعلی حکام نے نوٹس لے لیا، گریڈ 21 کے تین اعلی افسران پر مشتمل انسپیکشن ٹیم سیفٹی اور آپریشن کے معاملات کی رپورٹ دے گی۔

سکھر ڈویژن میں کثرت سے رونما ہونے والے ٹرین حادثات کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی انسپیکشن ٹیم سیفٹی اور آپریشن کے معاملات کی رپورٹ 7 دن میں تیار کرکے ریلوے کے اعلی حکام کو پیش کرے گی۔

سی ای او ریلوے نثار میمن کی جانب سے بنائی گئی ٹیم ایڈیشنل جنرل مینجر میکینکل، ایڈیشنل جنرل مینجر ٹریفک اور ایڈیشنل جنرل مینجر انفراسٹرکچر پر مشتمل ہے۔

انسپکشن ٹیم سکھر ڈویژن میں ٹنڈو آدم اور خان پور سیکشن کا تفصیلی دورہ کریگی اور سیفٹی اور آپریشن کے حوالے سے مکمل رپورٹ اعلی حکام کو دے گی۔

گذشتہ روز ڈہرکی کے قریب ٹرین حادثے میں 65 افراد ہلاک ہو گئے تھے، اس سے پہلے بھی پاکستان میں ٹرین کے جان لیوا اور بڑے حادثات ذیادہ تر سندھ میں خصوصاً ریلوے کے سکھر ڈویثرن کی حدود میں رونما ہوئے جن میں سیکڑوں افرد لقمہ اجل بنے۔ 4 جنوری 1990 میں پنوں عاقل کے قریب ٹرین حادثہ 350 افراد کی جانیں لے گیا۔ 13 جولائی 2005 کو گھوٹکی میں پیش آنے والے حادثے میں 134 افراد اور 28 فروری 2020 روہڑی میں کراچی سے لاہور جانے والی پاکستان ایکسپریس اور ایک بس کے درمیان تصادم میں کم از کم 22 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔