'بلاول اور مراد علی شاہ پانی چور مافیا کے سرغنا ہیں'

سندھ کی اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کراچی میں ڈھائی...
اپ ڈیٹ 04 جون 2021 08:17pm

سندھ کی اپوزیشن جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ کراچی میں ڈھائی سو ارب روپے سالانہ کا پانی چوری ہوتا ہے، بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ پانی چور مافیا کے سرغنہ ہیں،

سندھ اسمبلی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن اراکین صوبائی حکومت پر برس پڑے۔

ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن نے سندھ حکومت پر کراچی سے سالانہ ڈھائی ارب روپے کی پانی چوری کا الزام عائد کردیا۔

پی ٹی آئی رہنما اور اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ نل میں پانی آتا نہیں اور ٹینکرز کیلئے پانی ٹیم نہیں ہوتا، کیونکہ بلاول اور مراد علی شاہ پانی چور مافیا کے سرغنہ ہیں۔

صوبائی وزیر سعید غنی نے اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اراکین کس منہ سے نعرے بازی کررہے تھے؟

انہوں نے کہا کہ خواجہ اظہار کو بہت ساری چیزوں کا علم نہیں ہے۔

پی پی رہنما سعید غنی نے اپوزیشن کے احتجاج کو ارسا کے خلاف پیپلز پارٹی کے احتجاج کا ردعمل قرار دے دیا۔

سندھ اسمبلی میں اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے سندھ حکومت کے خلاف پانی چور کے نعرے لگادیئے، تاہم اپوزیشن احتجاج کےباوجود سندھ ایکویٹو ٹرسٹ پراپرٹیز کا بل منظور کرلیا، بل کی منظوری سے وفاقی اویکیو ٹرسٹ ایکٹ کا سندھ پر اطلاق ختم ہو جائے گا۔

اس سے قبل سندھ اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو ایم کیو ایم کے محمد حسین نے نقطہ اعتراض پر بولنے کی اجازت چاہی تاہم اسپیکر کے انکار کے باوجود وہ بات کرنے پر اسرار کرتے رہے۔

اجلاس میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ جب کراچی کے لوگ پیاسے مررہے ہوں تو آپ اس پر بات کرنے کیلئے وقت دیں۔

اس موقعے پر صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ ہم نے اپوزیشن اراکین کی بات سنی، درخواست ہے کہ ہماری بات بھی سنی جائے تاہم اپوزیشن اراکین نے ایوان میں نعرے بازی کرتے ہوئے اسپیکر ڈائرس کا گھیراو کرلیا۔

اسپیکر نے اپوزیشن اراکین کے احتجاج پر اجلاس 10 منٹ کیلئے ملتوی کردیا، تاہم اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر اپوزیشن اراکین نے پھر نعرے بازی شروع کردی۔

وقفہ سوالات بعد نقطہ اعتراض پر وزیر تعلیم سعید غنی نے بتایا کہ 30 جنوری کو اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں تبدیلیاں کی گئی تھیں، حکومت اپنے پلان کے تحت امتحان لے گی۔

اپوزیشن اراکین کے احتجاج کے باوجود ایکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کا قانون ایوان میں پیش کیا گیا جسے حکومتی اراکین کی منظوری سے منظور کرلیا گیا۔

اسپیکر نے بل منظوری کا اعلان کرتے ہوئے اجلاس 7 جون تک لئے ملتوی کردیا۔