سپریم کورٹ: شوکت عزیر صدیقی کیس کی سماعت
سپریم کورٹ میں سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیزصدیقی کیس کی سماعت ہوئی ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے ایک حاضرسروس جج نے عوامی اجتماع میں تقریرمیں چیف جسٹس اور اداروں پرالزامات لگائے، کیا ایک جج کوپبلک فورم پرایسی تقریرزیب دیتی ہے؟ شوکت عزیزصدیقی کیخلاف موجودہ ریفرنس ایک تقریرپرمبنی ہے اورتقریراوراس کے نقاط تسلیم شدہ حقائق ہیں ۔
سپریم کورٹ میں سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیزصدیقی کیس کی سماعت جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی ۔
وکیل حامد خان نے دلائل میں کہا جنوری کےبعد چارماہ گزرنے کے باوجود کیس کی سماعت غیرضروری تاخیر سے ہوئی ۔
جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ میں ہزاروں مقدمات زیرالتواء ہیں،آپ ایک کیس میں پارٹی تھے جو مہینوں چلا ہے،آپ بہتر جانتے ہیں کہ کونسے کیس کی وجہ سے اس کیس میں تاخیرہوئی ۔ وکیل حامد خان نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کا موقف نا سنا گیا نا ان کوگواہان پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا سابق جج نے ایک جگہ پرتقریرکی اوراس میں کی گئی باتوں سے انکارنہیں کیا جا سکتا، حقیقت جو بھی ہو، کیا ایک جج کو پبلک فورم پرایسی تقریرزیب دیتی ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ ایک حاضرسروس جج نے عوامی اجتماع میں تقریرمیں چیف جسٹس اور اداروں پر الزامات لگائے۔
وکیل حامد خان نے کہا کہ وہ عوامی اجتماع نہیں، وکلاء کی تقریب تھی، چیف جسٹس اوردیگرجج بھی وکلاء کے اجتماع میں تقاریر کرتے ہیں،
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بات کررہے ہیں؟ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ہمیشہ لکھی ہوئی تقریرپڑھی، کبھی الزام تراشی نہیں کی، نا کبھی اپنی تقاریر میں آئینی حدود پار نہیں کیں ۔ کیس کی سماعت دو جون تک ملتوی کر دی گئی ۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔