صحافی اسد طور پر حملے کے ملزمان گرفتار نہ ہوسکے
آج نیوز کے پروڈیوسر اسد طور پرحملے کرنے والے ملزمان تین روزگزرنے کے باوجود گرفتار نہ ہوسکے ، تحقیقیاتی ٹیم نےجائے واقعہ کا دورہ کیا ۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی گرفتاری کیلئے کوشاں ہیں،آج ملک بھرمیں پی ایف یو جے کی کال پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے جا رہے ہیں۔
جمعیت علماء اسلام نے صحافیوں پر حملوں کا معاملہ پارلیمان میں اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے سینٹ میں مذمتی قرارداد جمع کروا دی۔
پولیس کی چار رکنی تحقیقاتی ٹیم اسد طور پر حملے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔
تحقیقاتی ٹیم نے جائے حملہ کا دورہ کیا اور شوائد کا جائزہ لیا ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور سیف سٹی کیمروں کی مدد لی جارہی ہے۔
ڈی ایس پی خالد اعوان کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کیلئے کوشاں ہیں، تحقیقاتی ٹیم ،سائنسی اور فرانزک طریقے کے استعمال کرتے ہوئے شواہد کا جائزہ لے رہی ہے۔
واقعہ کیخلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے احتجاج کی کال دی ہے ، ملک بھر کے پریس کلب کے باہر شام کو احتجاجی مظاہرے کیے جائینگے۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔