'سندھ میں بدعنوان حکومت قابض ہے'

ایم کیو ایم کے رہنماوں نے الزام عائد کیا ہے کہ آئین میں 18 ویں...
شائع 24 مئ 2021 06:59pm

ایم کیو ایم کے رہنماوں نے الزام عائد کیا ہے کہ آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں نے اپنی الگ شناخت بنالی ہے، سندھ پر بدعنوان اور نسل پرست حکومت قابض ہے۔

بہادر آباد مرکز پر نیوز کانفرنس کے دوران ڈپٹی کنوینئر عامر خان نے کہا کہ وفاق ہر سال سندھ کو 850 ارب روپے دیتا ہے جبکہ کراچی سے بھی ساڑھے چار ارب روپے ٹیکسز کی صورت میں ملتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبوں کو نئے اضلاع بنانے کا اختیار ہے تو وفاق کو بھی نئے صوبے بنانے کا اختیار ہونا چاھیئے،

انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم نے کورونا صورت حال کے باعث احتجاجی ریلی ملتوی کردی، عامر خان نے صورت حال بہتر ہوتے ہی شہری سندھ کے حقوق کیلئے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا بھی اعلان کردیا، وزیر اعلٰی ہاوس کے گھیراو کی بھی دھمکی دے دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پورے میں جو ترقیاتی بجٹ میں سے کراچی پر صرف 20 سے 25 فیصد ہی لگایا جاتا ہے، 18 ویں ترمیم۔کے بعد صوبے اپنی الگ شناخت بناکر بیٹھ گئے ہیں ایسا لگتا ہے سندھ میں پیپلز پارٹی نے سندھو دیش کی حکومت ہے۔

متحدہ رہنما کاکہنا تھ کہ ملک مخالف نعرے لگ رہے ہیں، ریلی نکالی جارہی ہیں، ٹرانسپورٹ کا یہ حال ہے کہ 13 برس میں ایک بس نہیں لاسکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گرین لائن کیلئے بھی بسیں سندھ حکومت نے خریدنی تھی، پانی کی شدید قلت ہے، بلدیہ ٹاؤن میں ایک بوند پانی نہیں آتا۔ عامر خآن نے مزید کہا کہ شہری سندھ کی آبادی کو درست گنا نہیں کیا، جس پر ایم کیو ایم نے وفاق سے وعدہ لیا کہ 2023 میں نئی مردم شماری ہوگی، جعلی ڈومیسائل کے ذریعے غیرمقامی افراد کو مسلسل پولیس اور دیگر محکموں میں بھرتی کیا جارہا ہے،کراچی میں لوگ پابندی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں، لیکن ٹینکر مافیا مال بنانے میں مصروف ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ سندھ حکومت کی بدترین حکمران کی مثال۔ملکی تاریخ نہیں ملتی جعلی ڈومیسائل پر بھرتیوں کے خلاف عدالتوں سے رجوع کیا مگر کوئی سنوائی نہیں ہورہی، 18 ترمیم کے ذریعے پیپلز پارٹی نے سندھ پر قبضہ کر رکھا ہے، این ایف سی پر تو بہت شور کرتے ہیں پی ایف سی پر آواز نہیں نکلتی ہم صوبے کی بات کرتے ہیں تو آگ لگ جاتی ہے۔