جعلی بینک اکاونٹس کیس، سلیم مانڈوی ولا کی درخواست بریت پر فیصلہ
احتساب عدالت اسلام آباد نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا، اعجاز ہارون کی درخواست بریت مسترد ہونے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ۔
فیصلے میں بتایا گیا کہ شواہد دیکھے بغیر ملزمان کی جانب سے اٹھائے گئے تنازعات پرفیصلہ نہیں ہو سکتا ۔
احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر نے 22 صفحات پرمشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے جس کے مطابق سلیم مانڈوی والا اوراعجاز ہارون کیخلاف بادی النظرمیں ٹرائل کا کیس بنتا ہے۔ اعجاز ہارون سے مانڈوی والا کومنتقل رقم دوستی میں، قرض یا جرم سے وصول ہوئی؟ یہ ٹرائل میں ہی ثابت ہوگا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ جعلی بینک اکاؤنٹس عموماً منی لانڈنگ اورغیرقانونی سرگرمیوں کے لئے ہی کھولے جاتے ہیں ۔
جعلی بینک اکاؤنٹس مردہ افراد یا لوئرکلاس سے تعلق رکھنے والوں کے نام پر انہیں بتائے بغیرکھولے جاتے ہیں ۔ سلیم مانڈوی والا پرکیس سیاسی ہونے جیسے اعتراضات کا فیصلہ بھی ٹرائل مکمل ہونے پرہی ہو سکتا ہے ۔ فیصلے میں بتایا گیا کہ شواہد دیکھے بغیر ملزمان کی جانب سے اٹھائے گئے تنازعات پرفیصلہ نہیں ہو سکتا۔ اس موقع پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ٹرائل چلانے کی کوئی وجوہات موجود نہیں۔ الزامات کو ٹرائل کے دوران شواہد سے ثابت کرنے کی ذمہ داری نیب پر ہے۔ عدالت نے سلیم مانڈوی والا اور دیگر ملزمان کو 24 مئی کے روز فرد جرم کیلئے طلب کر رکھا ہے ۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔