'وزیراعظم کا نیانام اسکینڈل خان ہونا چاہیئے'
ترجمان سندھ حکومت مرتضٰی وہاب نے وزیر اعظم کیلئے نیا نام تجویز کردیا، کہتے ہیں وزیر اعظم کا نام اسکینڈل خان ہونا چاھئے کیونکہ اس دور حکومت میں اسکینڈلز کی کارکردی اسکینڈلز کے سوا کچھ نہیں، مرتضٰی وہاب نے وزیر اعظم سے ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کا مطالبہ بھی کردیا۔
وزیر اعلٰی سندھ کے مشیر قانون مرتضی وہاب نے نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ نااہل حکومت میں صرف ترین علیحدہ ہوا تو پوری حکومت سٹپٹائی ہوئی ہے، وزیر اعظم اتنے دباو میں ہیں کہ وزرا سے حمایت کے بیانات دلوارہے ہیں۔
مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ 48 لوگ جہنوں نے اپنا پارلمیان گروپ وزیراعظم کی اکثریت پر سوالیہ نشان ہے۔ کیا عثما بزدر کے پاس بھی اکثریت ہے یا نہیں؟ ترین گروپ جو دباو استعمال کررہا ہے اسکے اثرات نظر آرہے ہیں، اب یا تو جہانگیر ترین کے مقدمات ختم ہوجائیں گے۔
یا پھر حکومت کے پاس ایوان میں اکثریت نہیں رہے گی، وقت آگیا ہے کہ وزیر اعظم ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کریں۔
مرتضی وہاب نے کہا کہ جو لوگ شفافیت، دو نہیں ایک پاکستان کی بات کرتے تھے، آج انکے دور حکومت میں عوام کو ایک اور کروڑ کا ٹیکا لگا ہے، یہ ٹیکا راولپنڈی رنگ روڈ کی شکل میں لگا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رنگ روڈ کے روٹ کو تبدیل کرنے سے کروڑ کی لاگت بڑھ گئی، اس تبدیلی سے جو اربوں کا فائدہ ہونا ہے وہ کون ہے نمایاں ہوگیا ہے، وزیراعظم نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے صرف ایمانداری سے الزام لگاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پونے 3 سال میں ایمانداری، نیک نیتی کے دعوے داروں کے درجنوں اسکنڈلز سامنے آچکے ہیں، پہلا اسکینڈل چینی، شگرمافیا سے چڑے افراد، 55 روپے کلو چینی تھی، دوسرا آٹے کا اسکینڈل، تیسر ادویات کا اسکینڈل، ادویات کی قیمتوں میں کئی گناہ اضافہ ہوا،وزیر اعظم نے وزیر استعفٰی لے لیا، تعریفوں کے پل باندھے گئے، اسی وزیر کو پارٹی کا جنرل سیکریٹری بنادیا گیا۔
مرتضی وہاب نے پیٹرولیم مصنوعات، ایل این جی، پنجاب کی 600 سوسائٹیز، پی آئی اے، بی آر ٹی اور بلین ٹری سونامی کا بطور اسکینڈز ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک کروڑ میں سے صرف زلفی بخاری کو نوکری ملی تھی، وہ بھی ختم ہوگئی، 50 لاکھ گھروں میں سے صرف بنی گالہ ریکولرائز ہوا ہے، موجودہ حکومت نے عملاٰ ایک نہیں دو پاکستان بنادیئے ہیں جہاں منظور نظر لوگوں کیلئے ایک دور بقیہ عوام کیلئے دوسرا پاکستان ہے۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔