اسرائیل میں دو ہزار سال پرانی بائبل کی باقیات کی دریافت

اسرائیل میں ماہرین آثار قدیمہ کو مسیحیوں کی مقدس کتاب بائبل کے...
شائع 17 مارچ 2021 10:10am

اسرائیل میں ماہرین آثار قدیمہ کو مسیحیوں کی مقدس کتاب بائبل کے دو ہزار سال پرانے ایک مخطوطہ نسخے کی باقیات ملی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت ’بحیرہ مردار کے مخطوطوں‘ کی دریافت کے بعد سے آج تک کی اہم ترین بازیافت ہے۔

یروشلم سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق آثار قدیمہ سے متعلق اسرائیلی اتھارٹی (آئی اے اے) کے ماہرین کو انتہائی قدیمی انجیل کی یہ بہت گراں قدر باقیات آج منگل سولہ مارچ کے روز صحرائے یہودا سے ملیں، جو جنوبی اسرائیل سے لے کر مغربی کنارے کے مقبوضہ فلسطینی علاقے تک پھیلا ہوا ہے۔

آثار قدیمہ کی اسرائیلی اتھارٹی نے بتایا کہ ایک رول کی شکل میں بائبل کے ہاتھ سے لکھے گئے ایک نسخے کی یہ باقیات اس علاقے میں کھدائی کرنے والے ماہرین کو ایک ایسی جگہ سے ملیں، جو Cave of Horrors یا 'خوف ناکیوں کی غار‘ کہلاتی ہے۔

یہ باقیات عبرانی زبان کی بائبل کے یونانی ترجمے کی ہیں، جو 1960 کی دہائی سے لے کر آج تک کی اپنی نوعیت کی اہم ترین دریافت ہے۔ آئی اے اے نے ایک بیان میں کہا، ''گزشتہ تقریباً ساٹھ برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیلی ماہرین آثار قدیمہ کو کھدائی کے دوران بائبل کے کسی انتہائی قدیمی نسخے کی ایسی باقیات ملی ہیں۔‘‘

بائبل کے تقریباﹰ دو ہزار سال پرانے مخطوطہ نسخے کی باقیات اسی ٹوکری میں رکھی ہوئی ملیں۔ اسی ٹوکری میں ہزاروں سال پرانے بہت سے قیمتی سکے بھی موجود تھے
بائبل کے تقریباﹰ دو ہزار سال پرانے مخطوطہ نسخے کی باقیات اسی ٹوکری میں رکھی ہوئی ملیں۔ اسی ٹوکری میں ہزاروں سال پرانے بہت سے قیمتی سکے بھی موجود تھے

اسرائیلی مقتدرہ برائے آثار قدیمہ کے ماہر اورین ایبل مین نے بتایا کہ یہ باقیات اسی مخطوطے کا حصہ ہیں، جسے تاریخی حوالے سے 'بارہ نابالغ پیغبروں کی کتاب‘ یا Book of the Twelve Minor Prophets کہا جاتا ہے، اور جن کا پہلا حصہ 1950 کی دہائی میں صحرائے یہودا میں 'خوف ناکیوں کی غار‘ نامی جگہ سے ہی مقامی بدوؤں کو ملا تھا۔

'خوف ناکیوں کی غار‘ نامی جگہ کو یہ نام اسی لیے دیا گیا تھا کہ وہاں نصف صدی سے بھی زائد عرصہ قبل کھدائی کے دوران کئی انتہائی بوسیدہ انسانی ڈھانچوں کی باقیات ملی تھیں۔ یہ جگہ جغرافیائی طور پر بھی انتہائی دشوار گزار سمجھی جاتی ہے۔

بائبل کے انتہائی قدیمی نسخے کی یہ باقیات اسرائیلی ماہرین نے بڑی احتیاط سے اب محفوظ کر لی ہیں
بائبل کے انتہائی قدیمی نسخے کی یہ باقیات اسرائیلی ماہرین نے بڑی احتیاط سے اب محفوظ کر لی ہیں

بائبل کی نو دریافت شدہ لیکن قریب دو ہزار سال پرانی باقیات میں مسیحیوں کی کتاب مقدس کا متن زیادہ تر قدیم یونانی زبان میں لکھا ہوا ہے، جو اس دور میں بہت زیادہ استعمال ہونے والی علمی زبان تھی۔

اسرائیلی ماہرین کے مطابق آج ملنے والی بائبل کی باقیات 'بحیرہ مردار کے مخطوطوں‘ یا Dead Sea Scrolls کی دریافت کے بعد سے آج تک کی اہم ترین پیش رفت ہے۔ 'بحیرہ مردار کے مخطوطے‘ ان تقریباً 900 مسودوں کو مجموعی طور پر کہا جاتا ہے، جو 1947 اور 1956 کے درمیانی عرصے میں دریافت ہوئے تھے۔

یہ نسخے قمران کی غاروں سے ملے تھے، جو موجودہ مقبوضہ مغربی اردن کے علاقے میں بحیرہ مردار سے اونچائی پر واقع ہیں۔ رولز کی صورت میں لپیٹے ہوئے بائبل کے قلمی نسخوں کی یہ باقیات انجیل کی آج تک ملنے والی قدیم ترین تحریری باقیات میں شمار ہوتی ہیں۔