سپریم کورٹ: سینیٹ الیکشن ، اوپن بیلٹ، سماعت کل تک ملتوی
سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نےدلائل میں کہا کہ لوگ لیڈرزکی طلسماتی شخصیت کوووٹ دیتےہیں ۔
چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیئے تحریک انصاف کےساتھ طلسمی چیزکیا ہے؟ کیا بہترین شخصیت اورخوش لباسی پرلوگوں نےووٹ دیا؟ کیا آئین بنانے والوں کوسینیٹ الیکشن کامعلوم نہیں تھا؟ اٹارنی جنرل نے کہا اس سے پہلے ووٹ کی فروخت نہیں تھی جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ جمہوریت برقراررہتی توشاید یوں پیسہ نہ چلتا ۔
چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ صدارتی ریفرنس پرسماعت کی ۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نےدلائل میں کہا یہ بات ہورہی ہے کہ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے ہوں گےتو چیئرمین سینیٹ کے بھی ایسے ہی ہوں ۔ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے، اگر چیئرمین سینیٹ کا انتخاب اوپن بیلٹ سے کرانا ہو تو آئینی ترمیم درکارہوگی، بھارت میں چیئرمین سینیٹ اور نائب صدرکا انتخاب خفیہ رائے شماری سےہوتا ہے۔
چیف جسٹس گلزاراحمد نےاستفسار کیا لوگ پارٹی کوووٹ دیتے ہیں یا اس کے منشور کو؟ اٹارنی جنرل نےبتایا کہ زیادہ لوگ لیڈرز کی طلسماتی شخصیت کو ووٹ دیتے ہیں، قائداعظم کی شخصیت سےمتاثر ہو کر لوگ انہیں ووٹ دیتے تھے اصولی طور پرپارٹی اورمنشور کوووٹ ملنا چاہیے۔
جسٹس گلزار احمد نےریمارکس دیے تحریک انصاف کے ساتھ طلسمی چیز کیا ہے؟ کیا بہترین شخصیت اور خوش لباسی پر لوگوں نے ووٹ دیا؟
جسٹس اعجاز الاحسن نےریمارکس دیے ووٹ پارٹی کو دیا جاتا ہے نہ کہ انفرادی امیدوار کو، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اندرا گاندھی نے آئین توڑا تو لوگوں نے اسے مسترد کر دیا۔لوگ انتحابات میں پوچھتے ہیں کتنے وعدے پورے کیے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پارٹی منشور شائع کرنا قانونی طور پر ضروری بھی ہے۔
اٹارنی جنرل نےکہا کہ سینیٹ میں ووٹر کو مکمل آزادی نہیں ہوتی۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ بھارتی فیصلوں کا حوالہ دے رہے ہیں، بھارتی آئین میں خفیہ ووٹنگ کا آرٹیکل 226 نہیں ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارتی آئین میں ہر الیکشن کے لیے خفیہ ہونے یا نہ ہونے کا الگ سےذکر ہے، آرٹیکل 226 میں تمام انتحابات خفیہ ووٹنگ سےہونےکا ذکر نہیں ہے، آرٹیکل 226 کے مطابق آئین کےتحت ہونے والے الیکشن خفیہ ہوں گے۔
چیف جسٹس نےاستفسارکیا کیا آئین بنانےوالوں کو سینیٹ الیکشن کا معلوم نہیں تھا؟ جس پراٹارنی جنرل نے کہا کہ اوپن ووٹنگ کی فروخت آج ہے پہلے نہیں تھی، 1973میں تو معلوم بھی نہیں ہوگا کہ لوگ نوٹوں کےبیگ بھرکرلائیں گے۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ صورتحال اتنی بھی سادہ نہیں ہے جتنی آپ کہہ رہے ہیں جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جمہوریت برقراررہتی تو شاید سیاست میں یوں پیسہ نہ چلتا۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید کا کہنا تھا کہ کل تک دلائل مکمل کر لوں گا جس پرعدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔