سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ، بھرپور دفاع کی حمایت

وزیراعظم عمران خان نے پارٹی ترجمانوں کو سینیٹ انتخابات میں...
شائع 09 فروری 2021 08:14pm

وزیراعظم عمران خان نے پارٹی ترجمانوں کو سینیٹ انتخابات میں شفافیت کی مخالفت پر اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے اپوزیشن نہیں چاہتی پارلیمنٹ مضبوط ہو۔

وزیراعظم کی سربراہی میں حکومتی ترجمانوں اور رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم نے پارٹی ترجمانوں کو سینیٹ انتخابات میں شفافیت کی مخالفت پر اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لینے کی ہدایت کردی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا قوم کے سامنے آگیا کون جمہوریت کا مخالف ہے، اپوزیشن ملک میں شفاف انتخابات کی مخالف ہے، اپوزیشن نہیں چاہتی پارلیمنٹ مضبوط ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ انتخابات میں منڈیاں لگتی ہیں جسے روکنا چاہتے ہیں، سینیٹ کی منڈیوں کی قیمت عوام ادا کرتے ہیں، اپوزیشن اسی کرپشن اور منڈیوں کے سلسلہ کو بچانا چاہتی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا ملک شفافیت لا کرہی رہیں گے، میری 22 سالہ جدوجہد اسی کرپٹ نظام کے خلاف ہے، سپریم کورٹ کا اوپن ووٹنگ پر جو بھی فیصلہ آیا قبول کرینگے۔

ان کا مزید کہنا تھا سینیٹ اوپن ووٹنگ کےلئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں، سینیٹ کی منڈیوں سے عوام کا پارلیمنٹ سے اعتماد اٹھا جاتا ہے، اپوزیشن کے موجودہ نظام سے مفادات جڑے ہیں، عوام کو پتہ چل گیا اپوزیشن ار عوام کے مفادات الگ ہیں۔

اجلاس میں وزیر قانون کےپی کے سلطان محمد کو عہدے کے ہٹانے پر وزیر اعظم نے ترجمانوں کو آگاہ کیا۔

وزیراعظم نے ممنوعہ فنڈنگ کے معاملے پر ن لیگ کے موقف کو پولیٹیکل اسسٹنٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہمارے دامن صاف ہیں، یہ اپنے ہر حربے میں ناکام ہوں گے، نوازشریف رہبر کے بھیس میں رہزن ہیں، نوازشریف سیاست میں پیسہ لے کر آئے۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت حکومتی اور پارٹی ترجمانوں کے اجلاس میں سینٹ انتخابات اور حالیہ ویڈیو کا تذکرہ بھی ہوا جس پر وفاقی وزیر اسدعمر، شہزاد اکبر اور شوکت یوسفزئی نے شرکاء کو بریفنگ دی۔

اسد عمر کا کہنا تھا پی ڈی ایم سمجھتی ہے ہمیں اپنے ارکان کا ڈر ہے، اقتدار جانے سے ڈرتے تو کے پی کے حکومت میں 20 ایم پی ایز کو فارغ نہ کرتے، ضمیر فروشی کی ویڈیو نے ہمارے موقف کو تقویت دی۔

اسد عمر کا مزید کہنا تھا 2104 سے انتخابی اصلاحات کرنے کے لیے کوشش کررہے ہیں، پی ٹی آئی وفد نے ن لیگ کے دور حکومت میں بھی انتخابی اصلاحات کے لیے ملاقاتیں کی ۔