صدارتی ریفرنس کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جے یو آئی کی درخواست ابتدائی...
شائع 08 فروری 2021 10:12pm

سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جے یو آئی کی درخواست ابتدائی سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا ۔

اوپن بلیٹ سے متعلق صدارت ریفرنس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت نے صرف قیاس آرائیوں پرآرڈینس جاری کیانہ حکومت اور سیاسی جماعت ایک دوسرے کی طرف سے بات نہیں کرسکتیں ۔

چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجربینچ نے صدارتی ریفرنس پرسماعت کی اٹارنی جنرل خالد جاوید نے دلائل شروع کیے تو چیف جسٹس نے کہاکہ حکومت کچھ بھی کرسکتی حکومت کوکوئی نہیں روک سکتا، پتا نہیں کیسے الیکشن ترمیمی آرڈیننس جاری کردیا مفروضوں کی بنا پرآرڈینس جاری کیا گیا ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ آرڈیننس توعدالتی رائے سے مشروط ہے ۔

جے یوآئی کے وکیل کامران مرتضی نے آرڈیننس چیلنج کرنے کا بتاتے ہوئے نوٹس لینےکی استدعا کی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ عدالتی رائے حکومتی موقف سے مختلف ہوئی توآرڈیننس ختم ہوجائے گا ۔

اٹارنی جنرل نے کہاکہ اوپن بیلٹ سے ووٹ کی خرید و فروخت کوروکے گی انتخابات صاف شفاف ہوں گے ۔ چیف جسٹس نے رضا ربانی سے اختلاف کیوجہ پوچھتے ہوئے کہاکہ انتخابات صاف اور شفاف ہونے چاہیں، بدیانت لوگوں کومنتخب نہیں ہونا چاہیے۔

رضا ربانی نے موقف اپنایا کہ بنیادی سوال شفافیت کا نہیں ہے اٹارنی جنرل نے کہاکہ دوبڑی سیاسی جماعتیں صدارتی ریفرنس کی سماعت میں فریق نہیں ہیں سپریم کورٹ نے آرڈینس کے خلاف درخواست ابتدائی سماعت کیلئے منظور کرتےہوئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی ۔