'سندھ میں ویکسین خریداری کا معاملہ سیاست کی نظر ہونے کا خدشہ ہے'
وزیراعلٰی سندھ کےمشیر قانون مرتضی وہاب کہتے ہیں کہ سندھ میں کورونا ویکسین کی خریدار کا معاملہ بھی سیاست کی نظر ہونے کا خدشہ ہے۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے وزیراعظم کو بھیجے گئےخط کا جواب تو آیا لیکن اس عذر کے ساتھ کہ یہ کام وفاق پر چھوڑ دیں۔وفاق کے جواب میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ بہت زور دینگے تو وفاق اجازت دے سکتا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ وفاقی کابینہ نے ویکیسن کی خریداری کےلئے جن ڈیڑھ کروڑ ڈالرز کی منظوری دی تھی، وہ کہاں خرچ ہوئے؟
سندھ اسمبلی میں نیوز کانفرنس کےدوران مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ 21 جنوری کو وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم کو خط میں بتایا گیا تھا کہ چینی حکام نے سندھ حکومت کو کوڈ ویکسین کی فروخت کےلئے وفاق کے این او سی کی شرط عائد کی ہے۔ آج خط کا جواب آیا ہے، جو سمجھ سے بالاتر ہے۔
مرتضٰی وہاب نےکہاکہ وفاق نےتاحال ویکسین کی خریدار کےلئے کچھ نہیں کیا۔ 5 لاکھ ڈوز بھی چین نے عطیہ کی ہیں جبکہ اسد عمر نے جن 17 لاکھ ویکسین کا ٹویٹ کیا ہے۔ وہ بھی عالمی ادارہ صحت کے تحت بننے والے کووڈ فنڈ سے ہی عطیہ کی جائیں گے۔
مرتضی وہاب نے کہا کہ اب لاہور اور سیالکوٹ کی طرح اب کراچی میں بھی کاروائیوں ہوں گی پھر کسی عدالت میں نا چلیں جائے گا۔
انہوں نے45روز کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 11 روپے اضافے پر تنقید کرتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔