عہدہ بحالی کامعاملہ، شوکت صدیقی کی استدعا منظور

سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ کو عہدے پربحال کرنے کے معاملے پر...
شائع 28 جنوری 2021 07:49pm

سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ کو عہدے پربحال کرنے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے شوکت عزیز صدیقی کی استدعا منظور کرلی۔ اٹارنی جنرل اوروفاق پاکستان کو نوٹس جاری کردیے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے برطرفی کےخلاف سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر سماعت کی۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار اور کراچی بار کی دائر کردہ درخواستوں میں تضحیک آمیز الفاظ کیے گئے ہیں۔

وکیل رشید اے رضوی نے موقف اپنایا کہ اپنی درخواست میں ترمیم کر کے واپس دائرکر دیتا ہوں۔

جسٹس عمرعطاء بندیال کاکہنا تھاکہ آپ کی درخواست میں خفیہ اداروں کی جانب سے عدالتی امورمیں مداخلت کا الزام لگایا گیا ہے لیکن درخواست میں ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔

وکیل اسلام آباد بار کونسل نے کہا عوامی تاثر کی بنیاد پر درخواست دائر کی ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا لوگ آتے جاتے رہتے ہیں لیکن عدلیہ پھلتی پھولتی رہے گی۔افراد کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی،آپ عوامی تاثر پر بات نہ کریں۔

جسٹس اعجاز الاحسن بولے عوامی رائے سے متعلق آپ کی دلیل مبہم ہے۔ کیا خفیہ اداروں کی جانب سے عدالتی امور میں مداخلت سے متعلق کوئی گیلپ سروے کیا گیا۔ اگر گیلپ سروے ہوا تو کتنے افراد سے رائے لی گئی ہمیں اعداد و شمار بتائیں۔

وکیل اسلام آباد بار نے کہا کئی مقدمات عدالتوں میں آتے ہیں جن میں عوامی تاثر کی بات کی جاتی ہے۔ایسے مقدمات میں گیلپ سروے نہیں طلب کیا جاتا۔

عمر عطا بندیال نے اسلام آباد بار کے وکیل کو اپنی درخواست میں ترمیم کرنے کا کہہ دیا۔

عدالت نے آرڈر میں لکھایا کہ درخواست گزار شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے یہ دلیل دی گئی انہیں کونسل میں شفاف ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا۔

درخواست گزار نے کہا جوڈیشل کونسل نے دائرہ اختیارسے تجاوز کیا۔

عدالت نے کہا یہ مقدمہ آئین کی تشریح سے متعلق ہے۔

اس معاملے پراٹارنی جنرل اوروفاق کو نوٹس دیا جانا ضروری ہے، عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ماہ تک ملتوی کر دی۔