ڈینئل پرل کیس، عمر شیخ پر دہشتگردی کے الزامات پر جواب طلب

سپریم کورٹ نے ڈینئل پرل قتل کیس میں سندھ حکومت سے عمرشیخ کے خلاف...
شائع 27 جنوری 2021 11:14pm

سپریم کورٹ نے ڈینئل پرل قتل کیس میں سندھ حکومت سے عمرشیخ کے خلاف دہشتگردی الزامات پر جواب طلب کر لیا۔

عدالت نے استفسارکیا پراسیکیوشن کے پاس اتنا مضبوط کیس ہے تو اس کو عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا ۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔

دوران سماعت ڈینیل پرل کے والدین کے وکیل فیصل صدیقی نے عمر احمد شیخ پر دہشتگردی کے الزمات سے متعلق دستاویزات عدالت میں جمع کروا دیں۔

فیصل صدیقی نے عدالت میں عمر شیخ کا خط بھی پیش کر دیا۔

ملزمان کے وکیل محمود اے شیخ نے عدالت کو بتایا عمر احمد شیخ نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو جیل سے خط لکھا تھا، خط میں کہا وہ 17 سال سے قید میں ہیں اس کا کیس سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،عمر شیخ نےخط میں کہا عطاالرحمن نامی شخص ڈینئل پرل کے اغوا اور قتل کیس میں ملوث ہے۔

وکیل نے موقف اپنایا کہ عمر شیخ کو جیل میں تنہائی میں رکھا گیا ہے، عمر شیخ کو جیل میں جس سیل میں رکھا گیا ہے وہ قبرجیسا ہے۔عدالت نے سندھ حکومت سے عمرشیخ کے خلاف دہشتگردی الزامات پرجواب طلب کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی ۔