'جب تک کسی قوم کے جان و مال کی حفاظت نہیں ہوتی، قوم ترقی نہیں کر سکتی'

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک کسی قوم کے جان و مال کی...
شائع 23 دسمبر 2020 12:10pm

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک کسی قوم کے جان و مال کی حفاظت نہیں ہوتی، اس وقت تک وہ قوم ترقی نہیں کر سکتی۔

وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد پولیس لائنز میں پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب میں پپاس آؤٹ ہونے والے نوجوانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں اس لیے یہاں خاص طور پر یہاں آیا ہوں کہ پاکستان کی پولیس کو ایک پیغام دوں کہ جب تک ایک قوم کی جان اور مال کی حفاظت نہیں ہوتی، وہ قوم ترقی نہیں کر سکتی۔

انہوں نے کہا کہ جو سرحدوں پر پاکستان کے جان و مال کی ھفاظت کرتی ہے، وہ پاکستان کی فوج ہے اور جو ملک کے اندر سیکیورٹی دیتی ہے اور شہر میں سرمایہ کار، کاروباری شخص اور شہری کی حفاظت پولیس کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ جب تک قانون کی عملداری نہیں ہوتی اور لوگوں کے لیے سیکیورٹی نہیں ہوتی، اس وقت تک قوم کی خوشحالی نہیں آتی، اس لیے پولیس کا معاشرے میں انتہائی اہم مقام ہوتا ہے لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں پولیس کا وہ مقام نہیں ہوا جس کے پیچھے ایک تاریخ ہے۔

عمران خان نے کہا کہ غلامی کے دور میں انگریز کی پولیس تھی تو انگریز پولیس سے غلط حرکتیں کراتا تھا، لوگوں کو دباتا تھا، حقوق سلب کرتا تھا، پولیس سے لوگوں کو خوف تھا لیکن اسی انگریز کے اپنے ملک میں پولیس ایسی نہیں تھی بلکہ ان کے اپنے ملک میں پولیس شہریوں کی دیکھ بھال کرتی تھی اور شہری ان کو اپنا سمجھتے تھے لیکن کیونکہ انہوں نے ہمیں غلام بنایا ہوا تھا اور وہ حکومت کرتا تھا تو یہاں پولیس کا رویہ مختلف تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ قوم ہماری پولیس کو پسند کرے، اپنا سمجھے، ان سے پیار کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب 2013 میں پختونخوا میں ہماری حکومت آئی تو سب سے زیادہ دہشت گردی پختونخوا پولیس کے خلاف تھی، 500 سے اوپر پولیس اہلکار شہید ہو چکے تھے اور پولیس کا مورال نیچے گرچکا تھا لیکن وہاں کی پولیس ہمارے دیکھتے دیکھتے جس طرح تبدیل ہوئی، جس طرح سے انہوں نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور پھر ایسا وقت آیا کہ پشاور اور مردان کے شہریوں نے پولیس کی حمایت میں جلوس نکالے اور مجھے فخر ہوا کہ اپنی آنکھوں کے سامنے اس پولیس کو بدلتے دیکھا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے اور تنخواہ دار طبقے کو ملنے والی تنخواہ کافی نہیں۔

عمران خان نے کہا کہ کرکٹ کے دوران مجھے جنوبی افریقہ میں کرکٹ کھیلنے کی بہت پیشکشیں آتی تھیں لیکن اگر میں وہاں کھیلتا تو پیسہ بہت ملتا لیکن عزت نہ ملتی کیونکہ اس سے مجھے وہاں کی نسل پرست حکومت کی حمایت کرنی پڑتی، ہر انسان کے سامنے دو راستے انسانی عظمت اور شیطانیت کے ہوتے ہیں، نیکی کے راستے پر چلنا آسان نہیں لیکن اسی میں کامیابی ہے، نیکی کا راستہ مشکل اور گناہ کا آسان ہوتا ہے لیکن تباہی کا راستہ ہوتا ہے، قرآن میں واضح لکھا ہے رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پولیس سمیت کسی کو بھی تنخواہ دار طبقے کو ملنے والی تنخواہ کافی نہیں، کئی سال سے مہنگائی بڑھ رہی ہے، تنخواہیں اتنی نہیں جتنی ملنی چاہئیں، وہ سیاستدان جن کو اللہ نے بہت موقع دیا اور وہ ملک کے سربراہ بن گئے، ان کے سامنے بھی دو راستے تھے اور وہ حلال کما سکتے تھے، لیکن وہ اس راستے پر چل پڑے کہ آج عبرت کا نشان بنے ہوئے ہیں، ان کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ خود انہیں اس کا پتہ نہیں، لیکن کبھی اسپتالوں کے چکر لگارہے ہیں، کبھی ملک سے باہر جارہے ہیں، ان کے بچے بھی باہر بھاگے ہوئے ہیں، باپوں کی چوری بچانے کے لیے بچوں کو جھوٹ بولنا پڑ رہا ہے، کیا فائدہ ایسے پیسے کا، یہ پیسہ تو اللہ کا عذاب ہے، بڑے محلات میں رہنے والے لوگوں پر کیا گزر رہی ہوتی ہے، جس عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں وہ اللہ جانتا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ انشاءاللہ اسلام آباد پولیس کی تنخواہ پنجاب پولیس کے برابر کرنے کےلیے حفیظ شیخ سے بات کروں گا، بادشاہ نہیں وزیراعظم ہوں اس لیے اپنے وزیرخزانہ سے پوچھنا پڑتا ہے، ملک معاشی مشکلات کا شکار ہے، وزیراعظم ہاؤس اور آفس کے 60 سے 70 فیصد خرچے کم کیے ہیں، وفاقی حکومت نے بھی 40 ارب کے اخراجات کم کیے ہیں۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومتی اقدامات سے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہو گیا ہے، ملک میں سب کچھ ہے گورننس کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، جب تک ہماری آمدنی نہیں بڑھتی ساری قوم کو صبر کرنا پڑے گا، آگے حالات بہتر نظر آرہے ہیں، آمدنی بڑھتی جائے گی تو تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں گے، اسلام آباد پولیس کو ہیلتھ کارڈ دیں گے۔