'بلوچستان میں زراعت،ماہی گیری اور لائیواسٹاک میں ترقی کےمواقع موجود ہیں'
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے پاکستان میں ایف اے او کی نمائندہ مس ربیکا بیل کی ملاقات ماہی گیر،زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں کی ترقی اور معاونت کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعلی بلوچستان سےاقوام متحدہ کےذیلی ادارےایف اے او کی پاکستان میں سربراہ مس ربیکا نے ملاقات کی اس موقع پرایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقیات سیکریٹری پی ایچ ای ودیگر حکام شریک بھی شریک تھے۔
ملاقات میں یورپی یونین کی جانب سے بلوچستان کےآبی وسائل کی بحالی کے نئے پروگرام کےلئےمعاونت کی فراہمی سےمتعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایف اےاوکی نمائندہ مس ربیکا کا کہناتھاکہ آسٹریلین حکومت کیجانب سےشروع کیےگئےایگری بزنس پروگرام کےتحت چھ اضلاع کے23 ہزار گھرانوں کو پانی،خوراک، معاشی تحفظ کےلئے معاونت فراہم کی گئی ۔آبی وسائل کی بحالی کے پروگرام کے لئے ای یو کی جانب سے 40 ملین یورو کی مالی معاونت حاصل ہوگی۔
وزیر اعلی بلوچستان جام کمال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں زراعت، ماہی گیری اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں ترقی کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔موجودہ حکومت پانی کو محفوظ کرنے کےلئے متعدد ڈیمز کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔بلوچستان میں زراعت، لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے پیداواری شعبے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔
ایف اےاو کی نمائندہ نے ماہی گیری کے شعبے کی ترقی کےلئے تیکنیکی اور ٹڈی دل کے سدباب کےلئے معاونت فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔