کورونا وائرس:ایک دن میں مزید 80 افراد ہلاک، 2 ہزار سے زائد نئے کیسز
ملک بھر میں کورونا وائرس سے ایک دن میں 80 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جب کہ 2 ہزار سے زائد افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 37 ہزار206 کورونا ٹیسٹ کئے گئے، جس کے بعد مجموعی کووڈ 19 ٹیسٹس کی تعداد 63 لاکھ ایک ہزار 341 ہوگئی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 2 ہزار 615 مثبت کیس رپورٹ ہوئے ہیں، اس طرح پاکستان میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 4 لاکھ 57 ہزار 288 ہوگئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک سندھ میں 2لاکھ 4 ہزار103 ، پنجاب میں ایک لاکھ 31 ہزار 428، خیبر پختونخوا میں 54 ہزار 948، اسلام آباد میں 36 ہزار 117، بلوچستان میں 17 ہزار 909، آزاد کشمیر میں 7 ہزار 961 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 822افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں کورونا کے فعال مریضوں کی تعداد 40 ہزار 553 ہوگئی ہے۔ ملک کے چار بڑے شہروں میں تشویشناک حالت میں مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ ملتان میں 46فیصد مریض وینٹیلیٹر پر موجود ہیں، اسلام آباد میں 44، پشاور 26 فیصد جبکہ لاہور میں 33 فیصد مریض وینٹیلیٹر پر موجود ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا سے مزید 80 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جس کے بعد اب اس وبا سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 9 ہزار 330 ہوگئی ہے۔
این سی او سی کے مطابق کورونا سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 4 لاکھ 7 ہزار 405 ہوگئی ہے۔
دوسری جانب ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے مختلف شہروں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے۔
لاہور کے مزید 22، راولپنڈی کے 9، گوجرانوالا کے 4، گجرات اور حافظ آباد کے تین تین علاقے سیل کردیے گئے۔
متعلقہ علاقوں میں نقل وحرکت محدود کردی گئی ہے۔ شاپنگ مالز، دفاتر اور ریسٹورنٹ بند رہیں گے۔
پشاور میں عزیز خان، ریلوے کالونی اور فیلکن کالونی کمپلیکس کو بند کردیا گیا، ضلعی انتظامیہ نے سات گھروں کو بھی قرنطینہ کردیا۔
کراچی کے گلشن اقبال اور جمشید ٹاؤن کے مختلف علاقوں میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق ان علاقوں میں میڈیکل اسٹور اور اشیائے ضروریہ کی دکانوں کے علاوہ ہر قسم کے کاروبار پر پابندی ہوگی۔
پابندیوں اور بار بار کے احکامات کے باوجود شہری وائرس کو سنجیدہ لیتے ہوئے ایس او پیز پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہیں۔












اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔