اسلام آباد میں تو ریاست نام کی چیز سرے سے موجود ہی نہیں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی...
شائع 14 دسمبر 2020 12:32pm

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی دارالحکومت میں نئے سیکٹرز کی تعمیر سے بے گھر ہونے والے شہریوں کی درخواستوں پر سماعت کی۔

دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے حکومت اور سی ڈی اے پر ایک بار پھر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ کچھ عرصے سے ہمیں پتہ چلا کہ اسلام آباد میں تو ریاست نام کی چیز سرے سے موجود ہی نہیں، اس شہر کے منتخب نمائندوں کو شامل کر کے کمیشن بنایا وہ بھی مسائل حل نہیں کر سکے، ریاست جب کرپٹ ہو جائے تو اسے بلیک میل بھی کیا جاتا ہے ورنہ کس کی جرات ہے کہ ریاست کو بلیک میل کرے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ سی ڈی اے صرف ایف سکس اور ایلیٹ کلاس کی خدمت میں لگی ہے باقی اسلام آباد کا حال جا کر دیکھیں، بااثر لوگوں نے معاوضے بھی لے لیے لیکن عام شہریوں کو نہ تو معاوضہ ملا نہ ہی متبادل پلاٹس ، نیب سے پلی بارگین کرنے والے کرپٹ بھی بعد میں سرکاری پلاٹس لیتے رہے۔