'سیاسی ڈائیلاگ کی بہترین جگہ پارلیمان ہے'

وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں میں تمام سوالوں کے جواب دینے کو تیار...
شائع 09 دسمبر 2020 07:47pm

وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں میں تمام سوالوں کے جواب دینے کو تیار ہوں، جمہوریت تب چلے گی جب مکالمہ ہو گا، سیاسی ڈائیلاگ کی بہترین جگہ پارلیمنٹ ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے سیالکوٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نیشنل ڈائیلاگ سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے ہیں، سیاسی ڈائیلاگ کی بہترین جگہ پارلیمنٹ ہے۔

وزیراعظم عمران خان کاکہنا تھا کہ انہوں نے پہلے دن کہا تھا پارلیمنٹ میں تمام سوالوں کے جواب دینے کو تیار ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ جمہوریت تب چلے گی جب مکالمہ ہو گا، وزیراعظم نے کہا کہ ہم جو بات کرتے ہیں اپوزیشن کہتی ہے ہمارے مقدمات معاف کردیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن رہنماوں کے خلاف مقدمات انہی کے دور حکومت میں بنائے گئے، اسحاق ڈار نوازشریف کے بچے،داماد سب گزشتہ دور میں بیرون ملک بھاگے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہر ایشو پر بات کرنے کو تیار ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم کسی بھی صورت میں این آراو پر بات نہیں کریں گے، ہم کرپشن مقدمات معاف نہیں کر سکتے ہیں، ہماری سب سے بڑی جیت ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا، اس میں کوئی شک نہیں کر سکتا ہمیں ہر شعبہ میں تاریخی خسارہ ملا ہے، یہ ملک کو مقروض اور بینک کرپٹ کر کے چھوڑ گئے، ہمارا سب سے بڑا چلنج ان حالات سے نکلنا تھا جو یہ چھوڑ کر گئے، بڑی مشکل کے بعد ہماری معیشت اوپر جارہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا کہ دوبڑے ڈیم اور دو نئے شہر بن رہے ہیں، مجھے سب سے زیادہ خوشی عوام کو صحت انصاف کارڈ دینے کی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ شوکت خانم بنانے کا مقصد غریب کا مفت علاج کرنا تھا، ہم نے فیصلہ کیا ہے پنجاب اور خیبر پختوانخواہ کے ہر شہری کو ہیلتھ انشورنس دیں گے، اپوزیشن جلسوں کے علاوہ کیا کر سکتی ہے، یہ 11 جماعتیں مل کر بھی تحریک انصاف جتنے بڑے جلسے نہیں کر سکتیں۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومت کو بھیجنے کا آئینی طریقہ تحریک عدم اعتماد ہے، حکومت تحریک عدم اعتماد پیش کرنا چاہتی ہے تو اسمبلی میں آجائے، یہ استعفی دیں گے تو ہم انتخابات کروا کر اور زیادہ مضبوط ہوں گے، مجھے سمجھ نہیں آ رہی یہ کرنا کیا چاہتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار کی کمزوری ہے وہ اپنی اچھائیوں کی تشہیر نہیں کر سکتے، فردوس عاشق اعوان کو منصوبوں کی بہتر تشہیر کے لیے پنجاب لائے ہیں، گزشتہ 10 سالوں میں صرف 6 ارب روپے کی ریکوری ہوئی، 27 ماہ میں ہم نے پنجاب میں 207 ارب کی ریکوری کی، بڑے بڑے مافیا ن لیگ کے ساتھ ملے ہوئے تھے جو پکڑے جا رہے ہیں، جو ان کی مالی مدد کرتے تھے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اربوں روپے کی سرکاری زمینوں پر مافیا قابض تھے، ان کی آوازیں جمہوریت کی فکر میں نہیں نکل رہی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ان کو فکر یہ ہے کہ اب یہ سب پکڑے جائیں گے، کورونا کے باعث پوری دنیا کی صنعتیں متاثر ہوئی ہیں، کورونا کی وجہ سے بھارت کی معیشت 10 فیصد نیچے گئی ہے، مشکل صورتحال میں پاکستان کی معیشت ترقی کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بے روزگاری ہمارا بڑا مسئلہ ہے تاہم خوشی ہے لیبر کو روزگار میسر ہو رہا ہے، تعمیراتی شعبہ کی وجہ سے بھی روزگار مل رہا ہے، ہنر مند لیبر کے لیے عالمی معیار کی یونیورسٹی بنا رہے ہیں، ہنر مند لیبر ویلیو ایڈیڈ برآمدات میں بہت کارآمد ثابت ہو گی ۔