نیب آنکھیں اور کان بند کر لے تو کچھ نہیں نظر آتا،سپریم کورٹ

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے میگا منی لانڈرنگ کیس کے ملزمان کی...
شائع 09 دسمبر 2020 12:52pm

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے میگا منی لانڈرنگ کیس کے ملزمان کی درخوست ضمانت میں پراسیکیوٹرجنرل نیب کوطلب کرلیااور چیئرمین نیب سے ملزمان کی عدم گرفتاری کی وجوہات بھی مانگ لیں ،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نیب ملزمان کی گرفتاری میں تفریق کیوں کرتا ہے، نیب آنکھیں اورکان بند کر لے تو کچھ نہیں نظر آتا۔

جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے ڈاکٹرڈنشا اورجمیل بلوچ کی ضمانت کی درخواستوں پرسماعت کی۔

ڈاکٹر ڈنشا کے وکیل رشید اے رضوی نے مؤقف اپنایا کہ مؤکل 20 ماہ سے جیل میں ہے، باقی ملزمان آزاد ہیں، 86 گواہان ہیں کیس ایسا چلتا رہا تو مزید 3سال جیل میں لگ جائیں گے۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہاکہ ایک ہی ریفرنس میں کچھ ملزمان کو پکڑنے اور کچھ کونہ پکڑنے کی کیا منطق ہے،25 ملزمان میں سے صرف 4 کو کیوں پکڑا گیا۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جو مرکزی ملزمان ہیں، ان کو پکڑا گیا، ڈاکٹر ڈنشا 20 ماہ سے جیل میں ہے اورابھی تک چارج بھی فریم نہیں ہوا۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ہم نیب تحقیقات کی شفافیت پربات کررہے،نیب ملزمان کی گرفتاری میں تفریق کیوں کرتا ہے،چیئرمین نیب کس اتھارٹی سے گرفتاری کا فیصلہ کرتے ہیں۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ نیب مرکزی ملزمان کی گرفتاری کرتا ہے جبکہ سب سے بڑا بینیفشری تو نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ہے،نیب آنکھیں اورکان بند کر لے تو کچھ نہیں نظر آتا، کچھ جگہوں پرنیب کے پر جلتے ہیں سب کوپتا عمارت کس کی ہے۔

سپریم کورٹ نے میگا منی لانڈرنگ کیس کے ملزمان کی درخوست ضمانت میں پراسیکیوٹرجنرل نیب کوطلب کرلیا اورچیئرمین نیب سے ملزمان کی عدم گرفتاری کی وجوہات بھی مانگ لیں ۔