نیب دھمکا کر افسران سے بیانات لیتاہے، تحقیقات ہونی چاہیئے،احسن اقبال

اسلام آباد:مسلم لیگ ن کے رہنماء احسن اقبال نے چیئرمین نیب سمیت...
شائع 07 دسمبر 2020 12:00pm

اسلام آباد:مسلم لیگ ن کے رہنماء احسن اقبال نے چیئرمین نیب سمیت دیگر نیب حکام کے اثاثوں کی چھان بین کا مطالبہ کردیا اورکہا کہ موجودہ حکومت نے مافیا کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے، خود داغدار ہیں،سب کو بھی داغدار کرنا چاہتے ہیں،نیب دھمکا کر افسران سے بیانات لیتا ہے، تحقیقات ہونی چاہیئے،90دن کا ریمانڈبلیک میل کرنےکا ہتھکنڈا ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج سید اصغر علی نے نارووال اسپورٹس سٹی کیس سے متعلق ریفرنس پرسماعت کی، احسن اقبال کے وکیل طارق محمود جہانگیری جج نامزد ہونے کے باعث پیش نہ ہوئے۔

احتساب عدالت نے وکیل اورنیب پراسیکیوٹرکی غیرحاضری پرنارووال اسپورٹس سٹی کیس میں فرد جرم کی کارروائی مؤخرکرتے ہوئے سماعت بغیر کارروائی کے 22دسمبرتک ملتوی کردی۔

مسلم لیگ ن کے رہنماءاحسن اقبال نے میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسپورٹس کمپلیکس بنانامیرے لئے گناہ بن گیا ہے،کمیشن،رشوت اورکک بیک کچھ بھی ثابت نہیں کیاجاسکا،32سوارب کےترقیاتی فنڈزمیں ایک پیسےکامالی فائدہ نہیں اٹھایا، عمران خان اگر ثابت کریں تو میں قومی مجرم ہوں گا، نیب دھمکا کر افسران سے بیانات لیتا ہے۔

احسن اقبال نے ‏چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال اور اعلیٰ افسران کے اثاثوں کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

لیگی رہنماء نے کہا کہ نیب کےافسران کیخلاف بھی تحقیقات ہونی چاہیئے،نیب کی دہشتگردی سےسرکاری افسران خوف زدہ ہیں،نیب کی وجہ سےپاکستان کی انتظامیہ مشین جام ہوچکی ہے،ہم پربےبنیادالزامات لگائےجارہےہیں۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ 90دن کا ریمانڈلوگوں کوبلیک میل کرنےکاہتھکنڈاہے،اس ظلم گردی کا پورا حساب لیا جائے گا،نیب کو آٹا، چینی ،ادویات چوری اوربی آرٹی نظرنہیں آیا،ہرشعبےمیں مافیازکوکھلی چھو ٹ مل چکی ہے،ایف آئی اے اوراینٹی کرپشن کوانتقامی کارروائیوں میں جھونک دیا ہے،یہ بندہ داغدار ہے،سب کو بھی داغدارکرناچاہتاہے،ادارےاپناکام ذمہ داری سےاداکریں۔

سابق وزیرداخلہ احسن اقبال نے الزام عائد کیا کہ عمران خان اداروں کو اپوزیشن کیخلاف استعمال کر رہے ہیں۔

احسن اقبال کا مزید کہنا تھاکہ میرے خلاف نیب نے سرکاری افسران کو ڈرا دھمکا کر جھوٹی گواہی دینے پرمجبور کیا۔

لیگی رہنماء احسن اقبال نے کہا کہ قومی ادارے ہمارا اثاثہ ہیں،ان کی ساکھ کو بچانا ہے، پی ڈی ایم کا13 دسمبرکاجسلہ عوامی ریفرنڈم ہوگا ،حکومت کا قائم رہنا مشکل ہو جائے گا،اس حکومت کی نیندیں ابھی سے اڑچکی ہیں،یہ 10، 12 سیٹوں کا مسئلہ نہیں ہے،بڑے پیمارے پر شفاف اور آزادانہ انتخابات کرانا ہوں گے،استعفوں کافیصلہ پی ڈی ایم اتفاق رائے سے کرے گی،فیصلہ ہونے پر ہر رکن اسمبلی اس پر عمل کرے گا۔