خیبر ٹیچنگ اسپتال میں کورونا مریضوں کی ہلاکت کا معاملہ،ابتدائی رپورٹ تیار
پشاور:خیبر ٹیچنگ اسپتال میں آکسیجن ختم ہونے کے باعث کورونا مریضوں کی ہلاکت کے معاملے پرابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی، جس میں ابتدائی طور پر اسپتال ڈائریکٹر سمیت 7 ملازمین کو معطل کردیا گیا۔
خیبر ٹیچنگ اسپتال پشاور انتظامیہ نے آئسولیشن وارڈ سمیت مختلف وارڈز میں آکسیجن کی عدم فراہمی کے باعث کورونا کے 6 مریواں کے جاں بحق ہونے کے متعلق ابتدائی رپورٹ تیار کرلی جس میں اسپتال ڈائریکٹر سمیت 7 ملازمین کو معطل کردیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا کہ اسپتال کے پاس کوئی آکسیجن بیک اپ نہیں تھا، جبکہ آکسیجن کمپنی کے ساتھ تحریری معاہدہ 2017 میں ہی ختم ہوچکا ہے اور ہسپتال میں10000کیوبک میٹر آکسیجن کی کمی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا کہ آکسیجن کمپنی نے کبھی کمی پوری نہیں کی اور آکسیجن پلانٹ میں کام کرنے والااسٹاف بھی تربیت یافتہ نہیں اور تو اور آکسیجن پلانٹ کا اسٹاف موقع پر غیر حاضر تھا جبکہ اسپتال ایمرجنسی صورت حال میں ریسکیو سکواڈ بھی نہیں تھا۔
گزشتہ روز اسپتال کے بورڈ آف گورنر نے مریضوں کے اموات پر افسوس کا اظہار کیا، بورڈ نے کے ٹی ایچ کے سابقہ میڈیکل ڈائریکٹر کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔
کمیٹی میں سابقہ ایکٹنگ ڈین خیبر میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر روح المقیم اور دیگر ممبران ڈاکٹر فرمان علی منیجر میڈیکل ریکارڈ اور ڈاکٹر سعو دالاسلام پروسٹ کمیٹی میں شامل ہیں۔


















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔