'حکومت کو گھر بھیجنا ٹارگٹ ہے، ہوسکتا ہے استعفوں سے پہلے ہی بات بن جائے'

پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کہتے ہیں خان صاحب کو نظر آنا...
اپ ڈیٹ 06 دسمبر 2020 09:11am

پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کہتے ہیں خان صاحب کو نظر آنا شروع ہوگیا کہ انہیں اب گھر جانا پڑے گا، وزیراعظم کسی کو نہیں نکال سکتے پھر بڑھکیاں کیوں مارتے ہیں.

آج نیوز کے پروگرام روبرو میں گفتگو کرتے ہوئے رانا تنویر نے کہا کہ حکومت کو گھر بھیجنا ہمارا ٹارگٹ ہے، ہوسکتا ہے کہ استعفوں سے پہلے ہی بات بن جائے۔

تاہم وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کو دیے گئے دو ٹوک پیغام میں واضح کیا ہے کہ کرسی چھوڑنا پڑی تو چھوڑ دوں گا مگر ملک سے غداری نہیں کروں گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ مشرف کی طرح میں این آر او نہیں دوں گا، اپوزیشن صرف اپنی چوری بچانا چاہتی ہے، ان کے پاس اربوں کی جائیداد ہے لیکن ایک ڈاکیومنٹ نہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ پہلے دن سے بلیک میل کیا جارہا ہے، نیب قانون میں چونتیس تبدیلیوں کی لسٹ پکڑا دی، کہا گیا نیب کو دفن نہ کیا تو فیٹف میں تعاون نہیں کریں گے، یہ بھی کہا بدمعاشوں کے ٹولے کی غلط فہمی ہے کہ جلسے سے مجھ پر کوئی دباؤ پڑے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم انہیں جلسے سے نہیں روکیں گے لیکن چے گویرا بھی نہیں بننے دیں گے، کویڈ کا قانون توڑنے پر کیسز بنیں گے، ساؤنڈ سسٹم لگانے والوں اور آرگنائزرز کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے۔