Aaj TV News

BR100 4,466 Increased By ▲ 68 (1.56%)
BR30 17,502 Increased By ▲ 509 (3%)
KSE100 43,823 Increased By ▲ 543 (1.25%)
KSE30 17,029 Increased By ▲ 251 (1.5%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,287,393 232
DEATHS 28,784 7
Sindh 476,958 Cases
Punjab 443,560 Cases
Balochistan 33,509 Cases
Islamabad 107,960 Cases
KP 180,412 Cases

افغان خواتین ہفتے کے روز کابل کی ایک یونیورسٹی میں لیکچر تھیٹر میں چہرے پر مکمل نقاب کے ساتھ بیٹھ کر طالبان کی صنفی تفریق کی سخت پالیسیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا.

اے ایف پی کے مطابق 300 کے قریب خواتین -جو تعلیم کےلئے لباس کے متعلق رائج کی گئی نئی سخت پالیسیوں کے مطابق سر سے پیر حجاب میں تھیں- نے طالبان کے جھنڈے لہرائے اور اسلامی پالیسیوں کی حمایت کا اظہار کیا.

گنتی کی خواتین نے نیلے برقعے پہنے ہوئے تھے جس میں دیکھنے چھوٹی سے جگہ ہوتی ہے لیکن اکثریت نے چہرے پر سیاہ نقاب پہنے ہوئے تھے جن میں صرف آنکھیں کُھلی تھیں.

کئی خواتین نے سیاہ دستانے بھی پہنے ہوئے تھے.

طالبان کے 1996-2001 تک کہ دورِ حکومت میں شدت کے ساتھ خواتین کے حقوق سلب کیے گئے لیکن گزشتہ ماہ طاقت میں واپس آنے کے بعد ان کا کہنا ہے کہ وہ کم سخت اصول اپنائیں گے.

طالبان کے شعبہ تعلیم کے حکام کے مطابق اس بار خواتین کو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہوگی لیکن جماعتوں کو جنسی اعتبار سے علیحدہ رکھا جائے گا یا کم ازکم کمرہ جماعت کے بیچ میں پردہ لگایا جائے گا.

خواتین کو عبایہ اور نقاب بھی لازمی پہننا ہوگا.

خواتین نے شہید ربانی یونیورسٹی میں ہونے والے مظاہرے میں متعدد تقاریر سنیں. منتظمین کا کہنا تھا کہ یہ خواتین یونیورسٹی کی طالبات ہیں.

مظارے میں خواتین خطباء نے ان خواتین پر تنقید کی جو حالیہ دنوں میں افغانستان میں احتجاج کررہیں تھیں۔

انہوں نے اسلامی امارتِ افغانستان میں نئی حکومت کا دفاع بھی کیا جس نے وزارتِ انصاف کی اجازت کے بغیر کسی قسم کے احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد کررکھی ہے.