Aaj News

عمران خان اسلام آباد کے بجائے راولپنڈی کیوں جا رہے ہیں

26 نومبر کو عمران خان کا پاور شو ان کے سیاسی اہداف پر اثر انداز نہ ہوجائے
اپ ڈیٹ 19 نومبر 2022 09:10pm
<p>چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان فوٹو — فائل</p>

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان فوٹو — فائل

پاکستان کی حقیقی آزادی کی تحریک کے کپتان عمران خان نے لانگ مارچ کی اصطلاح استعمال کرنے کی بجائے کارکنوں کو 26 نومبر دوپہر ایک سے دو بجے کے درمیان راولپنڈی پہنچے کی ہدایت کی ہے۔

اگرچہ حکومتی اتحاد کے رہنما بلاول بھٹو اس تاریخ اور راولپنڈی کے مقام کو اہم تعیناتی سے لنک کررہے ہیں۔ مگر عمران خان کے خطاب میں دیئے گئے اشارے اور زمان پارک میں قائدین کے درمیان ہونے والی مشاورت کچھ اور خبر دے رہے ہیں۔

عمران خان نے ایک بار پھر اشارہ دیا ہے کہ راولپنڈی کے پاور شو سے تحریک رکے گی نہیں بلکہ حقیقی آزادی تک جاری رہے گی۔ چند ہفتے قبل وہ اس لانگ مارچ کے بعد سندھ اور ملک کے دیگر شہروں میں جلسوں کا بھی اشارہ دے چکے ہیں۔

تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق عمران خان راولپنڈی میں بڑے عوامی اجتماع میں ایک بار پھر تفصیل سے ریجیم چینج اور انصاف پر مبنی نظام کا مقدمہ پیش کرکے کارکنوں کو آئندہ کی حکمت دیں گے۔

ذرائع کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف اب ذہنی طور پر تیار نظر آتے ہیں کہ ان کا ٹارگٹ آئندہ عام انتخابات ہیں۔ عمران خان کے خیال میں وہ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں ووٹ بینک کے حوالے سے مثبت نتائج حاصل کرچکے ہیں اس لئے وہ آئندہ انتخابات تک ملک کے دیگر شہروں میں بھی جلسے کریں گے لیکن ان کا زیادہ فوکس سندھ پر رہے گا۔

دوتہائی کے حصول کے لئے عمران خان قومی اسمبلی کی نشستوں پر سندھ سے بھی بڑا حصہ لینا چاہتے ہیں۔

زمان پارک میں ہونے والے مشاورتی اجلاس سے جو اندرونی کہانی سامنے آرہی ہے، اس کے مطابق عمران خان ابھی اسلام آباد کو اپنے لئے ممنوعہ شہر قرار دیتے ہیں، انہیں گرفتاری یا انتقامی کارروائی کا خدشہ ہے۔

اس لئے انہوں نے اپنے لانگ مارچ کو اسلام آباد کی بجائے پنجاب کے بارڈر یعنی راولپنڈی تک محدود کرلیا ہے، وہ پنجاب اور اس کے بعد کے پی تک آزادانہ نقل و حرکت کریں گے مگر دارالحکومت اور سندھ کے دوروں کے لئے انہیں ابھی عدالتی تحفظ یا ضمانت حاصل کرنا ہوگی۔

اپریل 2022 کو اقتدار سے الگ ہونے کے بعد عمران خان نے مضبوط اعصاب کے ساتھ سیاسی جدوجہد جاری رکھی جس کا پہلا مرحلہ اب سات ماہ بعد راولپنڈی جا کر ختم ہونے کا قوی امکان ہے۔

سابق وزیراعظم نے پہلے ساڑھے چھ ماہ تک ملک بھر میں بڑے عوامی جلسے کئے اور اب وہ گذشتہ 21 روز سے لانگ مارچ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی دوران 3 نومبر کو جب عمران خان کا لانگ مارچ وزیرآباد کے قریب پہنچا تو ان کے کنٹینر پر فائرنگ کی گئی جس سے ایک شخص جاں بحق جب کہ عمران خان سمیت 13 افراد زخمی ہوئے۔

فائرنگ کے اس واقعے سے عارضی طور پر لانگ مارچ کا سفر تعطل کا شکار ہوا جس کے ایک ہفتے بعد ہی عمران خان نے پارٹی قائدین کو لانگ مارچ جاری رکھنے کی ہدایت کی، یہ مارچ 10 نومبر سے دوبارہ شروع ہوگیا اور پی ٹی آئی چیئرمین اپنی رہائش گاہ زمان پارک سے روزانہ مارچ کے شرکاء سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے رہے۔

اب بظاہر عمران خان کی نظر اہم تعیناتی کی بجائے انتخابات پر ہے، مگر ان کے سیاسی مخالفین کو ابھی بھی خدشہ ہے کہ 29 نومبر سے پہلے 26 نومبر کو عمران خان کا پاور شو ان کے سیاسی اہداف پر اثر انداز نہ ہوجائے۔

imran khan

PTI long march 2022

Politics Nov 19 2022

Comments are closed on this story.