Aaj News

فواد چوہدری نے پی ٹی آئی کو امتحان میں ڈال دیا

برازیل میں یوم جمہوریہ ریلی کو حکومت مخالف مظاہرہ قرار دے بیٹھے، بڑا دعوی بھی کر دیا
شائع 19 نومبر 2022 02:41pm
<p>برازیل کی ریلی۔ سوشل میڈیا</p>

برازیل کی ریلی۔ سوشل میڈیا

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیراطلاعات فواد چوہدری نے ایک دعویٰ کرکے اپنی ہی سیاسی جماعت کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔

فواد چوہدری نے ہفتہ کو برازیل کی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں خاصی تعداد میں لوگ ایک شہر کے بیچوں بیچ کھلی جگہ پر جمع ہیں۔

یہ ویڈیو جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹیو ہینکی کے تصدیق شدہ ٹوئٹر ہینڈل سے پوسٹ کی گئی ہے اور اس کے ساتھ پروفیسر نے دعویٰ کیا ہے کہ ہزاروں برازیلین شہری صدر لولا ڈی سلو کی حالیہ انتخابی فتح کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔

فواد چوہدری نے ویڈیو ری ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہاکہ راولپنڈی میں انشا اللہ اس سے بھی بڑا انسانوں کا سمندر ہوگا اور لوگ امپورٹڈ حکومت کو گڈ بائے کہہ دیں گے۔

برازیل میں لولا ڈی سلوا کو 2018 میں کرپشن کے الزامات پر انتخابات سے باہر کردیا گیا تھا تاہم گذشتہ برس عدالتوں نے ان کی سزا اور نااہلیت ختم کردی اور اس سال لولا ڈی سلوا ایک بار پھر صدر بن گئے۔ اس پر ان کے مخالف بولسونارو کے حامی مظاہرہ کر رہے ہیں اور فوج سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ لولا ڈی سلوا کے خلاف کارروائی کرے۔

تاہم پروفیسر ہینکی نے جو ویڈیو شیئر کی وہ حکومت مخالف احتجاج کی نہیں بلکہ 7 ستمبر کو برازیل کے یوم آزادی کے موقع پر نکالی گئی ریلی کی ہے۔

پروفیسر اسٹیو ہینکی جنہیں پی ٹی آئی کے کئی رہنما فالو کرتے ہیں نے کہا تھاکہ یہ مظاہرہ برازیل کے یوم جمہوریہ پر ہوا جو 15 نومبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ ویڈیو اور اس میں سے لی گئی تصاویر لولا ڈی سلوا کے کئی مخالفین نے بھی اس دعوے کے ساتھ شیئر کی ہیں کہ 30 لاکھ لوگ اس مظاہرے میں شریک ہوئے

بولسونارو کے حامی گذشتہ 20 روز سے حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور اس بنا پر پروفیسرہینکی کی ویڈیو کو فواد چوہدری سمیت کئی لوگوں نے ٹوئیٹ کیا تاہم [بیان الاقوامی خبر رساں اداروں نے فیکٹ چیک][1] کرکے بتایا کہ جن تصاویر اور ویڈیوز کو حکومت مخالف مظاہرہ قرار دیا جا رہا ہے وہ 7 ستمبر کو ہونے والے 200ویں جشن آزادی کے اجتماع کی ہیں۔

اسی اجتماع کی ایک اور ویڈیو رواں برس 11 ستمبر کو ٹک ٹاک پر بھی پوسٹ کی گئی تھی۔ اس وقت تک برازیل میں الیکشن نہیں ہوئے تھے اور صدر بولسونارو اقتدار میں تھے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ویڈیو میں 200 ویں جشن آزادی کے پوسٹر دکھائی دیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ستمبر میں یہ اجتماع بولسونارو کے ایما پر ہی ہوا تھا جس کے ذریعے اس وقت کے صدر اپنی طاقت کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔

 برازیل میں نیشنل کانگریس کی عمارت کے قریب مرکزی ایونیو جہاں جشن آزادی کی ریلی منعقد ہوئی تھی۔
برازیل میں نیشنل کانگریس کی عمارت کے قریب مرکزی ایونیو جہاں جشن آزادی کی ریلی منعقد ہوئی تھی۔

ستمبر میں جب بولسونارو نے طاقت کا مظاہرہ کیا تو ان کے مخالفین نے دعویٰ کیا کہ وہ دارالحکومت برازیلا میں نیشنل کانگریس کی عمارت کے قریب مرکزی ایونیو کو بھرنے میں ناکام رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ 16 کلومیٹر طویل اور تقریباً 300 میٹر چوڑے اس مقام پردس لاکھ لوگ آسانی سے آسکتے ہیں جبکہ علاقے کو مکمل بھرا جائے تو یہاں 20 لاکھ افراد کی گنجائش ہے۔

فواد چوہدری کے دعوے کے بعد سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف لاکھوں افراد راولپنڈی میں جمع کر پائے گی۔

brazil

Fawad Chaudhary

PTI long march 2022

Haqeeqi azadi march

Politics Nov 19 2022

Comments are closed on this story.

مقبول ترین