Aaj News

’لندن میں فیصلہ ہورہا ہے پاکستان کا آرمی چیف کون ہوگا‘

چوروں کا ٹبر لندن میں ملک کے مستقبل کا فیصلہ کر رہا ہے، عمران خان
شائع 12 نومبر 2022 05:24pm
<p>اسکرین گریب</p>

اسکرین گریب

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ آج لندن میں ایک تماشہ ہورہا ہے جو دنیا کے کسی ملک میں نہیں ہوتا، پچھلے چار پانچ دن سے پاکستان کا پرائم منسٹر اور دیگر لندن میں موجود ہیں اور وہاں جاکر فیصلہ ہورہا ہے کہ پاکستان کا آرمی چیف کون ہوگا، ملک کے سب سے اہم عہدے کا فیصلہ لندن میں ہورہا ہے۔

لالہ موسیٰ میں آزادی مارچ کے شرکاء سے ویڈیو لنک کے زریعے کئے گئے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ کون کر رہا ہے؟ اس ملک میں ایک مجرم قرار دیا گیا آدمی، ایک سزا یافتہ آدمی، ایک مفرور جو جھوٹ بول کر ملک سے باہر گیا، اس کے ساتھ اس کے بیٹے جو ن لیگ کے دور میں احتساب سے بھاگ کر باہر گئے، اور گئے اس لئے کہ وہ جواب نہ دے سکے کہ لندن میں اربوں روپے کی جائیدادیں کدھر سے آئیں۔

عمران خان نے کہا کہ تین دفعہ پاکستان کا وزیر اعظم بننے والے شخص کے بیٹے کہتے ہیں ہم پاکستان کے شہری نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار بھی ملک سے باہر بھاگا ہوا تھا، جب تک ’ہینڈلرز‘ نے یقین دہانی نہیں کرائی کہ آپ آجائیں آپ کو کوئی گرفتار نہیں کرے گا۔ یعنی ملک کے چوروں کا ٹبر ملک کے مستقبل کا فیصلہ کر رہا ہے۔

پی ٹی آئی چئیرمین کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے ایک اخبار پر ہتک عزت کا دعویٰ کیا، اسے نہیں پتا تھا کہ یہ برطانوی عدالت ہے۔

عمران خان نے کہا، ”شہباز شریف کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ ٹیلی فون اٹھا کر جج کو کہے کہ جی بے نظیر کو تین نہیں پانچ سال سزا دینا ہے، ماضی میں بریف کیس پکڑ کر کوئٹہ بینک میں جانے والا، بینچ کو خریدنے والا، اس کو یہ نہیں پتا کہ کدھر پھنس گیا جا کر۔“

انہوں نے مزید کہا کہ اب سے وہاں جا کر بتانا پڑے کہ کیا الزامات لگائے اور کس طرح الزامات غلط ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہمیں کہتے ہیں پاکستان میں پیسہ لگاؤ خود کا پیسہ باہر پڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ”شہباز شریف اور ان کے بیٹوں کا جو ٹی ٹی کیس ہے، تو ماڈل ٹاؤن میں پیسہ پہلے ان کے گھر سے گاڑی میں رکھا جاتا تھا، پھر پولیس گارڈ ہنڈی اور حوالے لے کر جاتے تھے، جہاں یہ پیسہ ڈالر میں تبدیل ہوتا اور پھر یہ باہر بھیجتے تھے۔ پھر جب باہر سے پیسہ منگوانا ہوتا تو ان لوگوں کے نام پر منگواتے جو پاکستان سے باہر کبھی گئے ہی نہیں، زرداری بھی یہی کرتا تھا۔“

عمران خان نے کہا، ”مجھ پر الزام لگایا کہ آرمی چیف کی تقرری کو متنازع کردیا، میں نے تو کبھی متنازع نہیں کیا، میں تو کہتا ہوں جو میرٹ کے اوپر ہو آرمی چیف اسے بنانا چاہئیے، مجھے تو کوئی اپنا آرمی چیف نہیں چاہئیے، نہ مجھے کوئی اپنا جج چاہئیے نہ اپنا آئی جی چاہئیے۔ مجھے تو میرٹ کے اوپر بہترین لوگ چاہئیں۔“

انہوں نے کہا کہ ”ان کو چاہئیے، ہر آدمی ان کا اپنا ہونا چاہئیے۔ شہباز شریف نے اسلام آباد کا جو آئی جی بنایا، اس کو سیف سٹی کیس میں سزا ہونے والی تھی۔ کیوں بنایا اس کو؟ کیونکہ وہ کرپٹ ہے اور اب اس کی خدمت کرے گا۔“

london

imran khan

Army chief appointment

PTI long march 2022

Azadi March Nov12 2022

Comments are closed on this story.