Aaj News

عمران خان نے جنرل باجوہ کو توسیع کی پیشکش کی، اسد عمر کی تصدیق

فوج اور آئی ایس آئی کی مشترکہ پریس کانفرنس کے جواب میں پی ٹی آئی رہنماؤں کا ردعمل
اپ ڈیٹ 28 اکتوبر 2022 01:33am

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ عمران خان نے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے ادارہ کمزور ہو۔

ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی مشترکہ اور غیر معمولی پریس کانفرنس کے جواب میں فواد چوہدری کے ہمراہ کی گئی پریس کانفرنس میں اسد عمر نے کہا یہ درست ہے فوج کی لیڈر شپ پر الزام اور نیت پر شک مناسب نہیں، لیکن کیا پاکستان کا سب سے بڑے سیاسی لیڈر کا رتبہ ملکی سلامتی اور وحدانیت کیلئے اہم نہیں؟

اسد عمر کا کہنا تھا کہ اس پر بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جو لوگ ہمشیہ اداروں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور ان کا دفاع کرتے ہیں، وہ کیوں سوال اٹھا رہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج آئینی کردار کے اندر رہنا چاہتی ہے، یہ اچھی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’آرمی چیف کوغیرمعینہ توسیع کی پیشکش کی گئی، غیرآئینی کام نہ کرنے پر میرجعفر، میر صادق کہا گیا‘

انہوں نے مزید کہا کہ ملاقاتوں میں غیر آئینی مطالبہ کیا کیا گیا؟ جو مطالبہ کیا گیا وہ ہزار دفعہ عمران خان اور پی ٹی آئی قیادت قوم کے سامنے دہرا چکے ہیں۔

اسد عمر نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ فوج سیاسی نظام پر اثر رکھتی ہے اور آپ سے یہ کہنا کہ آپ اثر و رسوخ رکھتے ہیں، آپ اس اثرورسوخ کو استعمال کریں تو اس سے آپ کو اتفاق ہو یہ نا ہو مگر یہ غیرآئینی مطالبہ نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بند کمروں میں وہی باتیں ہوئیں جو عمران خان نے جلسوں اور ٹی وی پر کیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نفرتوں کی وجہ سے ٹوٹا تھا لیکن کیا یہ سوچا گیا کہ نفرتیں پیدا کیوں ہوئی تھیں؟ یہ اس لئے ہوا کیونکہ پاکستانی عوام کی خواہشات پر عمل نہیں کیا گیا۔ عوام کی اکثریتی رائے کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کا ردعمل

عمران خان فوج اور عوام دونوں کو اون کرتے ہیں اور فوج کی بہتری کیلئے تنقید کرتےہیں، عمران خان کا یقین ہے مضبوط فوج ملک کی ضرورت ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران اسد عمر نے تصدیق کی کہ اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع کی پیشکش کی تھی۔

اسد عمر نے کہا کہ اس وقت پی ڈی ایم کی جانب سے کھلے عام بیانات آئے ہوئے تھے کہ وہ جنرل باجوہ کو توسیع دیں گے، تو یہ ضرور عمران خان نے کہا تھا کہ اگر معاملہ توسیع کا ہے تو توسیع تو ہم بھی دے سکتے ہیں آپ کو۔ اس تناظر کے اندر یہ بات چیت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کبھی بیرون ملک بیٹھ کر پاک فوج کے خلاف بات نہیں کی اور نہ ہی بھارتی وزیراعظم سے چھپ کر ملاقاتیں کیں۔

’اداروں کی پریس کانفرنس کا جواب دینا نہیں چاہتے‘

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم سے زیادہ فوج سے ہمدردی کس کو ہوگی، فوج کی لیڈر شپ کے ساتھ ضروری ہے کہ سیاسی لیڈر شپ کی بھی عزت ہو۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارے سامنے جتنے کمیشن بنے ان کی رپورٹس نہیں آئیں۔ سائفر کے معاملے پر کس نے صحیح یا غلط کردار ادا کیا، اس کی تحقیقات سے معاملہ صاف ہو سکتا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ملک میں آدھا تیتر آدھا بٹیر نظام نہیں چل سکتا۔ ہم سیاسی لوگوں کی پریس کانفرنس کا جواب دیں سکتے ہیں، اداروں کی پریس کانفرنس کا جواب نہیں دے سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کی فیملی کو بھی تھریٹ تھے، اس حکومت نے ارشد شریف پر 16 کیسز بنائے، اگر اسلام آباد ہائیکورٹ ایکشن نہ لیتی تو ارشد شریف کو یہاں جیل میں مروا دیا جاتا۔

’نیا پنڈورا باکس کھول دیا گیا ہے‘

تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہماری پالیسی بڑی واضح ہے کہ ہمارامارچ پرامن اورقانون کے دائرےمیں ہوگا، 126 دن کے دھرنے میں ایک شیشہ تک نہیں ٹوٹا تھا، لانگ مارچ پرامن ہوگا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سب کی خواہش ہے ادارے سیاست میں حصہ نہ لیں، ہم سمجھتے ہیں نیا پنڈورا باکس کھول دیا گیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک حوالہ میٹنگز کا دیا گیا، سوال یہ ہے کیا ہم نے ان میٹنگز میں کوئی غیر آئینی مطالبہ کیا ہے۔ ہمارا ایک ہی مطالبہ شفاف الیکشن کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پول کُھل گئی واوڈا کی پریس کانفرنس کے پیچھے کونسی قوت تھی: شاہ محمود

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کل ہمارے ایک ساتھی نے پریس کانفرنس کی جو خوف پھیلانےکیلئےتھی، اس حوالے سے پارٹی نے فیصل واوڈا کو شوکاز نوٹس دے دیا ہے

انہوں نے مزید کہا کہ آئین کا دفاع کرتے آئے اور کرتے رہیں گے۔ آئین میں تمام اداروں کا رول متعین ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عام انتخابات کرانے سے ملک میں استحکام آئےگا، ہم سیاسی عدم استحکام کے قائل نہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سفیر نے کہا سائفر میں دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی اور اس پرڈیمارش کی تجویزدی۔

Shah Mehmood Qureshi

press conference

Asad Umer

Fawad Chaudhary

Comments are closed on this story.

مقبول ترین