Aaj News

ممنوعہ فنڈنگ کیس، ایف آئی اے کیخلاف اسد قیصر کی درخواست مسترد

اسد قیصر کو گرفتار نہیں کر رہے، ان سے صرف انکوائری کرنا چاہتے ہیں، ڈپٹی اٹارنی جنرل
اپ ڈیٹ 27 ستمبر 2022 03:09pm
<p>فائل فوٹو</p>

فائل فوٹو

پشاور ہائیکورٹ نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے انکوائری کیخلاف اسد قیصر کی درخواست کو خارج کردیا۔

پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے نے سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف بھی انکوائری کا آغاز کیا تھا، جس کے خلاف اسد قیصر نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

درخواست پر ہائیکورٹ کے جسٹس لعل جان خٹک اور جسٹس اشتیاق ابراھیم نے سماعت کی۔

اسد قیصر کے وکیل بیرسٹر گوہر علی نے عدالت کو بتایا کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس ایف آئی اے انکوائری غیر قانونی ہے کیونکہ یہ کیس الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار ہے اور الیکشن کمیشن نے ایف آئی اے کو انکوائری کا حکم نہیں دیا۔

بیرسٹر گوہر علی نے عدالت کو بتایا کہ انکوائری میں ایف آئی اے نے کہا ہے کہ وہ انکوائری الیکشن کمیشن کی ہدایت پر کررہی ہے، جبکہ ہائیکورٹ کے سوال کے جواب میں ایف آئی اے نے کہا ہے کہ انکوائری الیکشن کی ہدایت پر نہیں ہو رہی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر جاوید نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے اسد قیصر کو گرفتار نہیں کررہی بلکہ صرف انکوائری جاری ہے، جس کیلئے وفاقی کابینہ نے منظوری دی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کی معاونت کرنا اداروں کی ذمہ داری ہے اس لئے انکوائری قانون کے مطابق ہورہی ہے۔

عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر محفوظ مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ایف آئی اے انکوائری کو قانونی قرار دیا اور اسد قیصر کے درخواست کو خارج کردیا۔

اسد قیصر نے ممنوعہ فنڈنگ کیس سے متعلق وفاقی تحقیاتی ادارے (ایف آئی اے) کے نوٹس کو اگست 2022 میں پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

سابق سپیکر کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ ایف آئی اے کے پاس اختیار نہیں کہ وہ الیکشن کمیشن کے کیس پر انکوائری کرے۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ جن اکاؤنٹس سے ٹرانزیکشن ہوئی وہ پارٹی کا اکاؤنٹ ہے جو ملازمین کی تنخواہوں اور دفتر کے اخراجات کے لیے کھولا تھا اور جس کا تمام ریکارڈ موجود ہے۔

Asad Qaiser

Peshawar High Court

Prohibited Funding Case

Comments are closed on this story.