Aaj.tv Logo

ریاض: سعودی عرب کی تمام خواتین عملے کے ساتھ پرواز مکمل کرنے والی ایئرلائن کی شریک پائلٹ یارا جان کا کہنا ہے کہ ایک سعودی کا پائلٹ بننا ایک نئی بات ہے لیکن ’ہماری نسل کے لیے یہ ناممکن نہیں‘۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی ایئرلائن فلائی ادیل نے مملکت میں پہلی اندرون ملک پرواز کی ہے جس کا مکمل سٹاف خواتین پر مشتمل تھا۔

سات خواتین کے عملے کے ساتھ فلائٹ 117 میں 23 سالہ یارا جان شریک پائلٹ کی حیثیت سے موجود تھیں جو سب سے کم عمر سعودی خاتون پائلٹ بھی ہیں۔

اس موقع پر سعودی پریس ایجنسی سے بات کرتے ہوئے یارا جان نے بتایا ہے کہ وہ ہوا بازی کے اس تاریخی لمحے میں سعودی خواتین کے لیے بہت فخر محسوس کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’سعودی خاتون کی حیثیت سے یہ ایک قابل فخر اقدام ہے جو میرے لیے انتہائی فخر اور خوشی کا لمحہ ہے۔

یارا جان نے 2019 میں فلوریڈا میں فلائٹ سکول سے گریجویشن کی اور ایک سال قبل سعودی عرب کی اس ایئر لائن میں شمولیت اختیار کی۔

شریک پائلٹ ہونے کا مطلب پائلٹ کے کئی اہم کاموں میں مدد کرنا جیسے نیویگیشن اور چیک لسٹ مکمل کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس ایئر لائن میں مجھے مثبت تبدیلی کا موقع ملنے پر ہمیشہ خوشی ہوگی جس نے سب سے کم عمر خاتون پائلٹ بننے میں میری رہنمائی اور بہت مدد کی۔‘

واضح رہے کہ سعودی خواتین پائلٹوں کی تعداد میں حال ہی میں اضافہ ہوا ہے جن میں تین نام نمایاں ہیں۔

سعودی کمرشل پائلٹ لائسنس کے ساتھ پرواز کرنے والی پہلی خاتون پائلٹ ہنادی زکریا الہندی ہیں۔ راویہ الریفی متحدہ عرب امارات سے بین الاقوامی سطح پر ایئربس A320 اڑانے والی پہلی خاتون پائلٹ ہیں اور شریک پائلٹ یاسمین المیمانی جو مملکت میں تجارتی طیارے کی پہلی شریک پائلٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق حکام نے کہا کہ اسے مملکت میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا گیا ہے۔

فلائی ادیل ایئرلائن کے ترجمان عماد اسکندرانی نے بتایا کہ ان کی جانب سے چلائی جانے والی پرواز فلیگ کیریئر سعودیہ کی بجٹ ذیلی کمپنی ہے، جس نے جمعرات کو دارالحکومت ریاض سے بحیرہ احمر کے ساحلی شہر جدہ کے لیے تھی۔

سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے فلائیڈیل کے اعلان کی تصدیق کرتے ہوئے حالیہ برسوں میں ہوا بازی کے شعبے میں خواتین کے لیے بڑھتے ہوئے کردار پر زور دیا ہے۔

تاہم 2019 میں اتھارٹی نے ایک خاتون سعودی شریک پائلٹ کے ساتھ پہلی پرواز کا اعلان کیا۔

سعودی حکام ہوا بازی کے شعبے میں تیزی سے توسیع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو مملکت کو عالمی سفری مرکز میں بدل دے گا۔

واضح رہے کہ اہداف میں اس دہائی کے آخر تک 33 کروڑ مسافروں کی سالانہ آمدورفت میں تین گنا سے زیادہ اضافہ کے لیئے ریاض میں ایک نئے "میگا ایئرپورٹ" کی تعمیر بھی شامل ہے۔