Aaj News

انٹرنیٹ صارفین نے روسی ریسٹورنٹس پر 'فیک ری ویوز' کے انبار لگادیے

گزشتہ ہفتے روسی حکام کی جانب سے بیشتر ویب سائٹس بشمول ٹوئٹر، فیس بُک اور گوگل کو خبردار کرتے ہوئے انہیں مہینے کے آخر تک نئے ایک نئے سینسرشپ قانون کی تکمیل کرنے کا وقت مہیا کیا ہے جس کو "لینڈنگ لا" کہا جاتا ہے۔
شائع 01 مارچ 2022 04:16pm
فوٹو — اے ایف پی
فوٹو — اے ایف پی
روس میں سینسرشپ کی مہم میں مزید تیزی۔ فوٹو — ڈی ڈبلیو
روس میں سینسرشپ کی مہم میں مزید تیزی۔ فوٹو — ڈی ڈبلیو

ماسکو: معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کی ویب سائٹ پر انٹرنیٹ صارفین نے روسی ریسٹورنٹس پر 'فیک ری ویوز' دیتے ہوئے یوکرین میں قائم روسی جارہیت کے خلاف بیانات کے انبار لگادیے ہیں۔

امریکی اخبار 'نیو یارک ٹائمز' کی رپورٹ کے مطابق ماسکو حکام نے ملک میں مختلف ٹیکنالوجی ویب سائٹس پر سینسر شپ عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے تاکہ صارفین اس کے تحت حکومت مخالف بیان بازی دینے سے محروم رہ سکیں۔

جبکہ گزشتہ ہفتے روسی حکام کی جانب سے بیشتر ویب سائٹس بشمول ٹوئٹر، فیس بُک اور گوگل کو خبردار کرتے ہوئے انہیں مہینے کے آخر تک ایک نئے سینسرشپ قانون کی تکمیل کرنے کا وقت مہیا کیا ہے جس کو "لینڈنگ لا" کہا جاتا ہے۔

تاہم روسی انٹرنیٹ ریگولیٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایپل سمیت اسپوٹی فائی اور ٹک ٹاک نے مکمل طور پر جبکہ گوگل، ٹوئٹر اور فیس بُک نے چند "لینڈنگ لا" کی شرائط پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔

ایک صارف نے گوگل ری ویو میں ریسٹورنٹ کے کھانے کی تعریف کی لیکن صدر ولادمیر پیوٹن سے جنگ بندی کی گزارش کی جبکہ دوسری جانب ایک اور صارف نے مقامی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ 20 سے زائد ریسٹورنٹس پر جائزے دے چکے ہیں اور اس سلسلے کو مزید جاری رکھیں گے۔

ایک غیر ملکی صارف نے روسی ریسٹورنٹس کے علاوہ بقیہ تمام کو پانچ اسٹار پر مشتمل ریٹنگ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس معلومات کو ری ویو کے ذریعے فراہم کرنے کا مقصد روسی عوام کو پیوٹن کے جھوٹ کا نقاب فاش کرنا ہے۔

خیال رہے کہ روس نے یوکرین پر 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کیا تھا جس کے بعد دارلحکومت کیف سمیت کئی شہروں میں جنگ جاری ہے۔

google

restaurants

ٹویٹر

ukraine invasion

Comments are closed on this story.

مقبول ترین