Aaj TV News

BR100 4,597 Increased By ▲ 11 (0.24%)
BR30 17,781 Increased By ▲ 212 (1.21%)
KSE100 45,018 Increased By ▲ 192 (0.43%)
KSE30 17,748 Increased By ▲ 82 (0.46%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,360,019 6,540
DEATHS 29,077 12
Sindh 520,415 Cases
Punjab 460,335 Cases
Balochistan 33,855 Cases
Islamabad 115,939 Cases
KP 183,865 Cases

اسلام آباد:سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیوٹیپ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخوست پر اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان کی آڈیو ٹیپس ریکارڈ کرنے کی صلاحیت کس کے پاس ہے؟ ثاقب نثار کی لیک آڈیوجن کے کیسز سےمتعلق ہے انہوں نے معاملہ عدالت لانے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکی مبینہ آڈیوٹیپ کی تحقیقات کیلئے کمیشن کی تشکیل سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔

صدر سندھ ہائیکورٹ بار صلاح الدین احمد نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ ریٹائرڈ چیف جسٹس ثاقب نثار آڈیوٹیپ نے عدلیہ کے وقارکونقصان پہنچایا ،عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کیلئے یہ تعین کرنا ضروری ہےکہ ثاقب نثار کی آڈیو اصلی ہے یا جعلی۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ مبینہ آڈیو ٹیپ سے تاثرملتا ہےکہ عدلیہ بیرونی قوتوں کےدباؤمیں ہے ،عدلیہ کو اپنے نام کے تحفظ کیلئے آزاد خودمختار کمیشن تشکیل دینا چاہیئے، آئینی عدالت ہونے کے ناطے عوام کا آزاد اور غیر جانبدار عدلیہ پراعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ اچھی شہرت والےریٹائرڈ جج، وکیل، صحافی، سول سوسائٹی کےافراد پرمشتمل آزاد خود مختار کمیشن بنایا جائے۔

اس پر چیف جسٹس اسلام آباد نے استفسار کیا کہ یہ بتا دیں کہ یہ پٹیشن قابل سماعت کیسے ہے؟ کس کیخلاف رٹ دائر کی گئی؟ آپ کی درخواست حاضرسروس چیف جسٹس کے آڈیو کلپ سے متعلق ہے۔ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ درخواست موجودہ چیف جسٹس نہیں، سابق چیف جسٹس پاکستان کے آڈیو کلپ سے متعلق ہے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ جس آڈیوکی بات ہورہی ہےوہ اس وقت کی ہےجب وہ چیف جسٹس پاکستان تھے، عدلیہ کو بڑے چیلنجرکاسامنا کرنا پڑا،عدلیہ کی آزادی کیلئے بارز نے کردارادا کیا، ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں کہ جہاں سوشل میڈیا کسی قواعد کے بغیر ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ یہی بات تکلیف دہ ہےکہ سوشل میڈیا پر یہ چیز وائرل ہوئی اوراس پر بحث بھی ہو رہی ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد نے کہا کہ روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے، آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ ہم پہلے اٹارنی جنرل کو پری ایڈمشن نوٹس جاری کریں گےاور اس کے بعد درخواست کےقابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر بات کریں گے، عدالت نے صرف قانون کے مطابق حقائق کو دیکھنا ہے ،جوڈیشل ایکٹوزم میں نہیں جانا، عدالت نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ کوئی فلڈ گیٹ نہیں کھل جائے۔

درخواست گزار صلاح الدین احمد ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان بار کونسل نے قرار داد منظور کی، عدالت مناسب سمجھے تو انہیں بھی نوٹس کردیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیئے کہ آئین و قانون کی حکمرانی کیلئے عدالت آپ کا احترام کرتی ہے، آپ کچھ آڈیو کلپس سے رنجیدہ ہیں، چیف جسٹس پاکستان کی آڈیو ٹیپس ریکارڈ کرنے کی صلاحیت کس کے پاس ہے؟ کیا انہوں نے یہ ریلیز کی یا کسی امریکا میں بیٹھے ہوئے آدمی نے؟مبینہ آڈیو ٹیپ ایک زیر التوا ءاپیلوں والے کیس سے متعلق ہے، آڈیوجن کے کیسز سےمتعلق ہے انہوں نے معاملہ عدالت لانے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔

چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ نے مزید کہا کہ فرض کریں آڈیو درست بھی ہے تو اصل کلپ کہاں کس کے پاس ہے؟ ایسی تحقیقات سے کل کوئی بھی کلپ لا کر کہے گا تحقیقات کریں۔

عدالت نے درخواست کےقابل سماعت یا ناقابل سماعت ہونے سےمتعلق معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 8دسمبرتک ملتوی کردی۔