Aaj TV News

BR100 4,519 Increased By ▲ 22 (0.49%)
BR30 18,277 Decreased By ▼ -62 (-0.34%)
KSE100 44,114 Increased By ▲ 178 (0.41%)
KSE30 17,034 Increased By ▲ 95 (0.56%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,284,189 303
DEATHS 28,709 5
Sindh 475,248 Cases
Punjab 442,950 Cases
Balochistan 33,479 Cases
Islamabad 107,626 Cases
KP 179,928 Cases

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی جو حکمران جماعت کے 14ارکین صوبائی اسمبلی کی جانب سے جمع کرائی گئی تھی۔ صوبائی اسمبلی کا اجلاس 25 اکتوبر تک ملتوی کردیا گیا۔

جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد سردارعبدالرحمن کھیتران نے پیش کی جس کے حق میں 33 ووٹ پڑے۔

اپوزیشن اراکین کا دعویٰ ہے کہ ہمارے 4 اراکین لاپتہ ہیں جس میں اکبر اسکانی، بشریٰ رند، لیلیٰ ترین اور ماہ جبین شیران شامل ہیں۔

تحریک میں بی اے پی کے 11، بی این پی کے 2، پی ٹی آئی کے ایک رکن اسمبلی کا نام شامل ہے، قرادرداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جام کمال خان کی خراب حکمرانی پر انہیں وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹایا جائے۔

اسپیکر عبدالقدوس بزنجو نے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 25 اکتوبر صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ 25 اکتوبر کو تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری ہوگی۔

واضح رہے کہ تحریک عدم اعتماد پر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ چند لوگوں کی خواہش پر تبدیلی کا حکومت اور اپوزیشن سمیت سب کو نقصان ہوگا۔

دوسری طرف میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کا کہنا تھا کہ ناراض اراکین تحریک عدم اعتماد پیش کریں فیصلہ آنے دیں حقیقت سامنے آجائے گی۔

ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوگی۔

لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے دوستوں کو منا ليا ہے، ارکان کے لاپتہ ہونے کا دعویٰ قابل مذمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا دعویٰ 42 اراکین کا تھا مگر اس وقت ایوان میں ان کے پاس صرف 33 ارکین ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان حکومت سے ناراض بی اے پی اور اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے اسمبلی احاطے میں دھرنا دیدیا۔ احتجاج کے دوران اراکین نے وزیراعلیٰ جام کمال خان کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھیوں کو رہا کیا جائے۔