Aaj TV News

BR100 4,497 Increased By ▲ 100 (2.27%)
BR30 17,582 Increased By ▲ 590 (3.47%)
KSE100 43,994 Increased By ▲ 713 (1.65%)
KSE30 17,119 Increased By ▲ 341 (2.04%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,287,393 232
DEATHS 28,784 7
Sindh 476,958 Cases
Punjab 443,560 Cases
Balochistan 33,509 Cases
Islamabad 107,960 Cases
KP 180,412 Cases

پینٹاگون میں امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک میلی اور روسی ہم منصب ویلری گیراسیموف کے درمیان ملاقات ہوئی، ملاقات میں روسی صدر کی اس پیش کش کا جائزہ لیا گیا جس میں ولادیمیر پوتن نے واضح طور پر کہا کہ افغانستان میں جنم لینے والے دہشت گردی کے کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے وسطی ایشیا میں روسی فوجی اڈے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق گذشتہ بدھ کے روز روسی جوائنٹ چیف آف اسٹاف نے امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کی تھی۔

امریکی ذمے داران کا کہنا ہے کہ جنرل گیراسیموف نے ابھی تک ہیلسنکی اجلاس میں کیے گئے وعدوں کو بھی پورا نہیں کیا۔ کریملن ہاؤس نے اس حوالے سے تبصرے سے انکار کر دیا۔

یہ خفیہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب بائیڈن انتظامیہ افغانستان میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کی نگرانی اور ان کا جواب دینے کی صلاحیت بڑھانے کے طریقوں پر غور کر رہی ہے۔

دہشت گردی کے خطرے کے حوالے سے امریکا اور روس کے مشترکہ اندیشے ہیں۔ البتہ انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں روس کے ساتھ کام کرنا بالخصوص سیاسی پہلو سے، چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے۔

روسی صدر کی جانب سے غیر متوقع طور پر یہ پیش کش کی گئی کہ امریکی فوجی یونٹس تاجکستان اور کرغستان میں روسی فوجی اڈوں کا استعمال کر سکتے ہیں۔ امریکی ذمے داران کا کہنا ہے کہ اگرچہ پوتن نے یہ بیان دیا تو ہے تاہم یہ نہیں معلوم کہ وہ کس حد تک سنجیدہ ہیں۔

امریکی کانگریس کے بعض ارکان اب بھی ماسکو کی نیت کے حوالے سے شکوک رکھتے ہیں۔