Aaj TV News

BR100 4,763 Increased By ▲ 47 (1%)
BR30 20,671 Decreased By ▼ -169 (-0.81%)
KSE100 45,821 Increased By ▲ 322 (0.71%)
KSE30 18,006 Increased By ▲ 182 (1.02%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,267,393 567
DEATHS 28,344 16
Sindh 466,945 Cases
Punjab 438,636 Cases
Balochistan 33,159 Cases
Islamabad 106,615 Cases
KP 177,240 Cases

بھارت کی سرپرستی میں داعش کے پانچ ٹریننگ کیمپ چلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جن میں ایک مقبوضہ کشمیر جبکہ تین راجستھان اور ایک اتراکھنڈ میں ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق ان ٹریننگ کیمپوں کا مقصد کشمیریوں کی مقامی حق خود ارادیت کی جدوجہد کو عالمی دہشت گردی سے منسلک کرکے اسے بدنام کرنا ہے۔

اتوار کو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اور مشیر قومی سلامتی معید یوسف کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ڈوزئیر( معلوماتی مواد پر مشتمل دستاویزات کا پلندا) پیش کیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے اس ڈوزئیر کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بھارت کی سرپرستی میں داعش کے پانچ ٹریننگ کیمپ چل رہے ہیں۔ انہوں نے ان کیمپوں کی نقشے پر لوکیشن بھی بتائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’عالمی برادری کے لیے یہ تشویش کا باعث ہے کہ بھارت داعش کی سرپرستی کر رہا ہے۔ ثبوت ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت داعش کے پانچ ٹریننگ کیمپ چلا رہا ہے۔ ان میں ایک سے گلمرگ مقبوضہ کشمیر میں، تین راجستھان اور ایک اترا کھنڈ میں ہے۔‘

ترجمان نے کہا کہ ’ریاستی تربیت یافتہ داعش کے جنگجو کشمیریوں کی تحریک میں شامل کرکے انڈیا اس تحریک کو عالمی دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اس طرح ایک تو وہ کشمیریوں کی تحریک کو بدنام کرنا چاہتا ہے اور دوسری طرف کشمیریوں کے خلاف اپنے جرائم کو انسداد دہشت گردی کے خلاف اقدامات ثابت کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔‘

ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان پہلے ہی بھارت کی جانب سے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے ڈوزئیر پیش کر چکا ہے۔ اب داعش جنگجو تیار کرنے کے ثبوت بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔‘

ترجمان نے کہا کہ ’کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد تو تقسیم ہند سے قبل مہاراجہ گلاب سنگھ کے دور سے شروع ہوئی تھی۔ جو مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی اس سطح پر پہنچ گئی ہے کہ پڑھے لکھے کشمیری نوجوان بھی بھارتی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت نے اس مسئلے کو پرامن حل کے بجائے تشدد کا راستہ اپنایا اور کشمیر میں عورتوں بچوں اور جوانوں کے خلاف جرائم کیے۔‘

ترجمان کے مطابق، ’صرف 2016 سے اب تک 72 ایسے نوجوانوں کو قتل کیا گیا جو اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ ان میں 47 گریجویٹ، 15 ماسٹر ڈگری ہولڈرز اور 10 ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز تھے۔‘

’کشمیریوں کی نسل کشی، اجتماعی قبریں، زیر حراست تشدد، کیمیکل ہتھیاروں کا استعمال، بچوں اور خواتین پر تشدد، جبری گمشدگیاں، پیلیٹ گنز کا استعمال، اجتماعی سزائیں، کالے قوانین، فالس فلیگ آپریشنز اور جعلی پولیس مقابلے وہ انڈین جرائم ہیں جن کا ذکر دنیا بھر کی رپورٹس میں ملتا ہے۔‘

اس موقع پر کشمیر میں اجتماعی قبروں، تشدد، ریپ اور پیلیٹ گنز کا شکار دو سالہ بچی کی ویڈیوز سمیت کشمیریوں کے خلاف جعلی مقدمات اور ان پر تشدد کے حوالے سے انڈین افسران کے آڈیو کلپس بھی چلائے گئے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ہم مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے ڈوزئیر میڈیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔‘

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کوئی نئی بات نہیں، ’جب سے ہندوتوا حکومت انڈیا میں آئی ہے ان پامالیوں میں اضافہ ہو گیا ہے، آج انڈین فوجی محاصرے کو 769 دن گزر چکے۔‘

پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ’ہم نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت سرکار کے اصل چہرے کو بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، بین الاقوامی میڈیا کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی نہیں دی جاتی۔‘

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’انسانیت کو اس انداز میں پامال کرنا انتہائی نامناسب یے اس لیے ہم نے آج یہ ڈوزئیر سامنے لانے کا فیصلہ کیا، 131 صفحوں پر مشتمل اس ڈوئیرکے تین باب ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پہلے چیپٹر میں جنگی جرائم کا تذکرہ ہے، دوسرے چیپٹر میں فالس فلیگ آپریشنز کا ذکر جبکہ ’تیسرے باب میں سلامتی کونسل کی قراردادوں اور انڈیا کی مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشششوں کا ذکر ہے۔‘

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس میں 113 حوالے موجود ہیں جن میں 26 بین الاقوامی میڈیا سے لیے گئے،41 حوالے انڈیا کے تھنک ٹینکس سے لیے گئے، پاکستان کے صرف 14 حوالے ہیں۔

’یہ انتہائی ساکھ والی دستاویز بنائی گئی ہے، 3232 کیسز جنگی جرائم سے متعلق ہیں اور 1128 ان افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں میجر جنرل، بریگیڈیئر و دیگر سینیئر افسران کا تذکرہ ہے جو انسانی حقوق کی پامالیوں میں براہ راست ملوث رہے ہیں۔‘