Aaj.tv Logo

اقوام متحدہ کےایٹمی نگران ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا نے نیوکلیئر ری ایکٹرز دوبارہ فعال کردیا ہے جس کے متعلق سمجھ جاتا ہےکہ وہ نیوکلیئرہتھیاروں کےلئے پلوٹونیم بناتا ہے۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی شمالی کوریا میں کوئی رسائی نہیں ہے۔ 2009 میں پیانگ یانگ نے ادارے کے انسپیکٹروں کو ملک سے نکال دیا تھا۔

اُس کے بعد شمالی کوریا اپنے نیوکلیئر پروگرام کو آگے لےکر بڑھا اور جلد ہی نیوکلیئر ٹیسٹنگ شروع کردی۔ شمالی کوریا نے آخری نیوکلیئر تجربہ 2017 میں کیا تھا۔

ایجنسی اب شمالی کوریا کو دور سے دیکھتی ہے، زیادہ تر سیٹلائیٹ کی تصاویر سے۔

آئی اے ای اے کی یونگ بیون میں 5 میگاواٹ کے ری ایکٹر پر رپورٹ کے مطابق دسمبر 2018 سے جولائی 2021 تک ری ایکٹر کے فعال ہونے کے کوئی آثار نہیں تھے۔ یہ نیوکلیئر کمپلیکس شمالی کوریا کہ نیوکلیئر پروگرام کی سب سے اہم جگہ ہے۔

جمعے کو جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ری ایکٹر کے فعال ہونے کا دورانیہ بتاتا ہے کہ ایندھن کی پوری کھیپ استعمال کی گئی۔

یہ نیوکلیئر کمپلیکس دہائیوں سے عالمی تحفظات کا مرکز بنا ہوا ہے۔

2019 کےابتداء میں شمالی کوریاکے سپریم لیڈر کِم جونگ اُن نےاس وقت کےامریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ سے پابندیوں میں نرمی برتنےکی صورت میں پورا کمپلیکس ختم کرنے کی پیشکش کی تھی۔

لیکن امریکیوں نے کِم کی یہ پیشکش ٹھکرادی کیوں کہ یہ ان کی جانب سے نیوکلیئر پروگران سے جزوی طور پر ہتھیار ڈالنا ہوتا۔

جنوبی کوریا کے 2018 کے ایک اندازے کے مطابق شمالی کوریا 20-60 تک نیوکلیئر ہتھیار بنا چکا ہے۔