Aaj TV News

BR100 4,499 Decreased By ▼ -172 (-3.68%)
BR30 17,749 Decreased By ▼ -1085 (-5.76%)
KSE100 43,948 Decreased By ▼ -1421 (-3.13%)
KSE30 16,967 Decreased By ▼ -609 (-3.46%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,285,631 377
DEATHS 28,745 8
Sindh 476,017 Cases
Punjab 443,240 Cases
Balochistan 33,488 Cases
Islamabad 107,765 Cases
KP 180,146 Cases

پانچ ماہ قبل ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں حدیقہ نامی لڑکی ایک شہریار نامی لڑکے کو لاہور یونیورسٹی میں سب کے سامنے پروپوز کرتی ہے۔

اس ویڈیو کو پاکستانی معاشرتی اصولوں کے باعث سراہنے کے بجائے بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان میں شادی ایک مقدس فریضہ سمجھا جاتا ہے اور روایات کے مطابق یہاں اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ لینے سے قبل خاندان کے بڑوں کو لازمی شامل کرنا ہوتا ہے۔

تاہم، اب چھ ماہ بعد حدیقہ نے شادی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ دونوں میں رابطہ ختم ہوچکا ہے۔

ایک یوٹیوب چینل کو دیے گئے انٹرویو میں حدیقہ نے کہا کہ وہ نومبر سے ہی شہریار کے ساتھ ریلیشن میں تھیں، وہ اپنے رشتے کو پبلک کرنا چاہتے تھے اسی لیے مارچ میں انہوں نے خود شہریار کو پرپوز کیا۔

حدیقہ کے مطابق شہریار نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کی ڈگری مکمل ہونے میں دو سال باقی ہیں۔ ڈگری پوری ہونے کے بعد وہ حدیقہ سے شادی کے بارے میں بات کو آگے بڑھائیں گے۔

اس پر رد عمل دیتے ہوئے حدیقہ نے کہا کہ ان دونوں میں لمبے عرصے سے رابطہ ختم ہوچکا ہے اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ دو سال بعد شادی کرلی جائے۔ جب رابطہ ہی نہیں ہے تو اچانک شادی کیسے ہوسکتی ہے؟

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد حدیقہ کو پیش آنے والے مسائل کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں اس واقعے کے بعد خاندان کی طرف سے کافی مسائل اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم، اپنے والد کے تعاون سے چیزیں سنبھالنا بہت آسان رہا ہے ، ورنہ یہ ان کے لیے بہت مشکل تھا۔

حدیقہ نے مشورہ دیا کہ نوجوان اگر ایسا کچھ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے خاندانوں کو شامل کرنا چاہیے تاکہ کچھ غلط ہونے کی صورت میں ان کے اہل خانہ ان کی مدد کرسکیں۔

لاہور کی نجی یونیورسٹی میں حدیقہ نے شہریار کو پرپوز کیا تھا جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہوئیں اور دونوں کو یونیورسٹی سے بھی نکال دیا گیا تھا، تاہم بعض وفاقی وزرا کی جانب سے تنقید کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔