Aaj TV News

BR100 4,644 Decreased By ▼ -89 (-1.89%)
BR30 20,295 Decreased By ▼ -45 (-0.22%)
KSE100 45,304 Decreased By ▼ -240 (-0.53%)
KSE30 17,708 Decreased By ▼ -103 (-0.58%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,269,806 572
DEATHS 28,392 6
Sindh 468,164 Cases
Punjab 439,307 Cases
Balochistan 33,204 Cases
Islamabad 106,749 Cases
KP 177,553 Cases

چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے نے اپنی ساکھ اور کاروباری زندگی کو جدت دینے کے لیے نیا موبائل آپریٹنگ سسٹم "ہارمنی" جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔

ہواوے کے نئے آپریٹنگ سسٹم کو "ہارمنی او ایس" کا نام دیا گیا ہے۔ ایک آن لائن تقریب میں اس آپریٹنگ سسٹم سے لیس موبائل فونز کو نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔

امریکہ میں جاسوسی کے الزامات کے باعث اینڈرائیڈ موبائل آپریٹنگ سسٹم کے استعمال پر پابندی کے بعد سے ٹیکنالوجی کی دنیا کی ہواوے کے نئے آپریٹنگ سسٹم پر نظریں مرکوز تھیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ’چین ہواوے کو جاسوسی کے لیے استعمال کر رہا تھا اور واشنگٹن نے اسے سائبر خطرہ قرار دیا تھا۔‘

ہواوے نے موبائل فون کی دنیا میں 2003 میں قدم رکھا تھا اور سمارٹ فونز میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کا انتخاب کیا تھا۔ سام سنگ اور ایپل کے بعد ہواوے موبائل بنانے والی دنیا کی تیسری بڑی کمپنی ہے۔

امریکی پابندیوں کے بعد ہواوے کے موبائل کاروبار کے مستقبل پر سوالیہ نشان اٹھنے لگے تھے۔ اینڈرائیڈ سسٹم کا حصہ نہ ہونے کے بعد ہواوے کے صارفین کو گوگل کی سروسز استعمال کرنے میں دشواری پیش آئے گی اور اس کے لیے انہیں متبادل ایپلی کیشنز بنانا پڑیں گی۔

مگر چین کی مارکیٹ میں ایپلی کیشنز بنانے والے ڈیویلپرز کی کمی نہیں اور چین میں پہلے سے ہی گوگل کے مقابلے میں ایپلی کیشنز موجود ہیں۔

ہواوے کا چین کی مقامی مارکیٹ میں اہم مقام ہے اور چینی صارفین کے لیے ان کے پاس ایپلی کیشنز پہلے سے ہی مارکیٹ میں موجود ہیں۔