Aaj TV News

BR100 4,617 Increased By ▲ 7 (0.15%)
BR30 17,726 Increased By ▲ 106 (0.6%)
KSE100 45,083 Increased By ▲ 128 (0.28%)
KSE30 17,828 Increased By ▲ 90 (0.51%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,393,887 7,539
DEATHS 29,162 25
Sindh 533,496 Cases
Punjab 469,540 Cases
Balochistan 34,131 Cases
Islamabad 122,098 Cases
KP 187,983 Cases

امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے سے متعلق کوئی سمجھوتا نہیں ہوا، جوہری سمجھوتے کی بحالی کے لیے مذاکرات کا یرغمالیوں کی رہائی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بالکل الگ معاملہ ہیں۔

یہ بات وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے منگل کے روز ایک نیوزبریفنگ میں کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ایران میں زیرحراست امریکیوں کی وطن واپسی کا معاملہ بالواسطہ مذاکرات میں اعلیٰ سطح پر اٹھایا گیا ہے۔ اس موضوع پر ویانا میں جوہری مذاکرات سے الگ گفتگو کی گئی ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’اسی اختتامی ہفتہ پر قیدیوں کے تبادلے سے متعلق منظرعام پر آنے والی رپورٹس درست نہیں ہیں۔ ہم اس مسئلہ کو اجاگر کرتے رہے ہیں لیکن فی الوقت چار امریکیوں کی رہائی کے لیے کوئی سمجھوتا نہیں ہوا ہے۔‘‘

ایران کے سرکاری میڈیا نے اتوار کو لبنان سے نشریات پیش کرنے والے المیادین ٹی وی کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایران میں قید چار امریکیوں کی رہائی کے لیے ایک سمجھوتا طے پاگیا ہے۔ ان کے بدلے میں امریکا چار زیر حراست ایرانیوں کو رہا کردے گا اور امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے 7 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز جاری کردے گا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے سوموار کو اس سمجھوتے سے متعلق رپورٹ کی تردید کی تھی۔

واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بھی اس اطلاع کی تردید کی تھی اور اس کے ردعمل میں کہا تھا کہ ’’قیدیوں کے تبادلے سے متعلق رپورٹس درست نہیں ہیں۔‘‘

ادھر ویانا میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی اور اس میں امریکا کی واپسی کے بارے میں اپریل سے بات چیت جاری ہے۔ اس میں امریکا اور ایران کے مذاکرات کار بالواسطہ شریک ہیں۔ ایران جوہری سمجھوتے کی بحالی اور اس کی شرائط کی پاسداری سے قبل امریکا سے تمام اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کررہا ہے۔

یورپی ممالک ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے کی صرف اصل شکل میں بحالی چاہتے ہیں اور وہ ایران کی مشرقِ اوسط کے خطے میں دوسری سرگرمیوں پر زور نہیں دے رہے ہیں جبکہ امریکا خطے میں ایران کے تخریبی کردار کا بھی خاتمہ چاہتا ہے اور وہ اس سے متعلق بعض شقوں کا اضافہ چاہتا ہے۔

ایران ان مذاکرات میں اپنے منجمد فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس کے تیل کی آمدن کی مد میں 20 ارب ڈالر جنوبی کوریا ، عراق اور چین ایسے ممالک میں منجمد پڑے ہیں۔ان ممالک نے نومبر 2018ء میں ایران کے خلاف امریکا کی پابندیوں کے نفاذ کے بعد ان رقوم کو منجمد کرلیا تھا اور اب تک ایران کو یہ جاری نہیں کی ہیں۔