Aaj TV News

BR100 4,599 Increased By ▲ 13 (0.29%)
BR30 17,334 Decreased By ▼ -78 (-0.45%)
KSE100 44,888 Decreased By ▼ -36 (-0.08%)
KSE30 17,696 Decreased By ▼ -30 (-0.17%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,381,152 6,357
DEATHS 29,122 17
Sindh 529,218 Cases
Punjab 466,164 Cases
Balochistan 33,975 Cases
Islamabad 120,128 Cases
KP 185,683 Cases

ترکی کی وزارت خارجہ نے ہفتے کی شام کو اعلان کیا ہے کہ اس نے انقرہ میں امریکی سفیر کو امریکی صدر جو بائیڈن کے اس بیان کے بعد دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا ہے، جس میں امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ سنہ 1915ء کو عثمانی سلطنت کے فوجیوں نے آرمینیا میں نہتے لوگوں کی بڑی تعداد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

جوبائیڈن نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ 1915 میں ہونے والی ہلاکتیں نسل کشی کے مترادف ہیں۔ یہ ایک تاریخی اعلان ہے جس نے ترکی کو مشتعل کردیا اور نیٹو کے رکن ممالک مابین تعلقات کو مزید کشیدہ کردیا ہے۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نائب وزیر خارجہ سادات ونال نے امریکی سفیر ڈیوڈ سیٹر فیلڈ کو آگاہ کیا کہ بائیڈن کے بیان کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے اور انقرہ نے اسے "ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بیان کی وجہ سے "تعلقات میں ایک ایسا گھاؤ آیا ہے جس کا علاج کرنا مشکل ہو گا۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے جوبائیڈن کے اس اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے استنبول میں آرمینیائی عیسائی پادری کو لکھے گئے مکتوب میں "تیسرے فریق" کو اپنے ملک کے معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ترک وزیر خارجہ میلوت جاوش اوگلو نے کہا ہے کہ ترکی اپنی تاریخ کے بارے میں کسی سے سبق حاصل نہیں کرتا ہے۔

امریکا کے صدر جوبائیڈن نے 1915ء میں سلطنت عثمانیہ کی فوج کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے قتلِ عام کو نسل کشی تسلیم کرلیا ہے۔ وہ یہ فیصلہ کرنے والے امریکا کے پہلے صدرہیں جبکہ ترکی نے ان کے بیان کو مسترد کردیا ہے اور اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

انھوں نے ہفتے کے روزآرمینیائی باشندوں کے قتلِ عام کی برسی کے موقع پرجاری کردہ بیان میں نسل کشی کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ انھوں نے ایک روز قبل ہی ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی اورانھیں اپنے اس فیصلے کے بارے میں مطلع کردیا تھا۔

صدر بائیڈن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم ان تمام لوگوں کو یاد کر رہے ہیں جو عثمانیہ دور میں آرمینیاؤں کی نسل کشی کے وقت مارے گئے تھے۔ ہم خود سے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ اس طرح کا قتل عام دوبارہ کبھی نہ ہو۔‘‘

امریکی صدر کے اس بیان کو آرمینیا اور بالخصوص بیرون ملک رہنے والے آرمینیائی باشندوں کی ایک بڑی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ ایک عرصے سے اپنے آباء واجداد کے پہلی عالمی جنگ کے دوران میں عثمانی فوج کے ہاتھوں قتل عام کو نسل کشی قرار دینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ آرمینیائی باشندے ہر سال 24 اپریل کو دنیا بھر میں ایک صدی قبل اپنی نسل کے قریباً 15 لاکھ افراد کے قتل عام کی یاد میں دن مناتے اور مظاہرے کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ یوروگوائے نے 1965ء میں سب سے پہلے اس قتل عام کے لیے نسل کشی کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ اس کے بعد سے فرانس ، جرمنی ، کینیڈا اور روس سمیت متعدد ممالک آرمینیائی باشندوں کی نسل کشی کو تسلیم کرچکے ہیں لیکن امریکا کے سابق صدور نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔