Aaj TV News

BR100 4,979 Decreased By ▼ -47 (-0.94%)
BR30 24,460 Decreased By ▼ -313 (-1.26%)
KSE100 46,636 Decreased By ▼ -284 (-0.61%)
KSE30 18,480 Decreased By ▼ -178 (-0.95%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,218,749 2,928
DEATHS 27,072 68
Sindh 448,658 Cases
Punjab 419,423 Cases
Balochistan 32,707 Cases
Islamabad 103,720 Cases
KP 170,391 Cases

شکر سے تیار کیے گئے میٹھے مشروبات اگرچہ ذائقے میں اچھے ہوتے ہیں تاہم صحت پر ان کے اثرات اپنے ذائقے جیسے میٹھے نہیں ہوتے۔

انگریزی ویب سائٹ "سائنس ڈیلی" نے ایک تحقیق کے نتائج جاری کیے ہیں۔ یہ تحقیق امریکا میں دو جامعات "جورجیا" اور "ساؤتھ کیلی فورنیا" یونیورسٹیوں کے سائنس دانوں نے انجام دی۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق میٹھے مشروبات بچوں کے حافظے اور ان کے سیکھنے کی صلاحیتوں کو کمزور کرتے ہیں۔

محققین نے اس حوالے سے چُوہوں پر بھی تجربات کیے۔ اس دوران میں یہ بات سامنے آئی کہ جن چوہوں نے بچپن میں روزانہ شکر سے میٹھا بنایا گیا پانی پیا تھا انہیں حافظے کے مسائل کا زیادہ سامنا کرنا پڑا۔

اس سلسلے میں محققین مستقبل میں اس بات کے تعین کی امید رکھتے ہیں کہ آیا ایک صحت مند طرز حیات، بچپن میں کثرت سے پیے گئے میٹھے مشروبات کے نقصانات کو زائل کر دیتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ڈنمارک کی آرہوس یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے سُوروں پر تجربات کیے تھے۔ ان تجربات کے دوران میں یہ بات واضح ہوئی کہ شکر دماغ کے عمل کے نظام پر منشیات کی مانند اثر انداز ہوتی ہے۔

شکر سے میٹھے بنائے گئے مشروبات سے ملنے والے حراروں میں بہت کم غذائیت ہوتی ہے۔ یہ سیر ہونے کا ویسا احساس بھی نہیں دیتے جو ٹھوس غذا سے ملتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم کے اندر داخل ہونے والی مجموعی توانائی بڑھ جاتی ہے اور اس سے غیر صحت مند طور پر وزن میں اضافہ ہوتا ہے۔