Aaj TV News

BR100 4,623 Increased By ▲ 6 (0.12%)
BR30 17,917 Increased By ▲ 191 (1.08%)
KSE100 45,078 Decreased By ▼ -5 (-0.01%)
KSE30 17,793 Decreased By ▼ -35 (-0.2%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,402,070 8,183
DEATHS 29,192 30
Sindh 535,965 Cases
Punjab 471,925 Cases
Balochistan 34,187 Cases
Islamabad 123,648 Cases
KP 189,300 Cases

کراچی :سندھ ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو ایک ہفتے میں کورونا ویکسین کی قیمت مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں کورونا ویکسین کی درآمد کیلئے نجی فارما کمپنیز کو اجازت دینے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔

ڈریپ نےنجی کمپنیز کیلئے استثنیٰ واپس لینے کے سرکاری نوٹیفکیشن معطلی کو چیلنج کیا ، سنگل بینچ نے ڈریپ کا 18 مارچ کا نوٹیفکیشن معطل کردیا تھا ،ڈریپ نے 18 مارچ کو نوٹیفکیشن کے ذریعے درآمد کا استثنیٰ واپس لے لیا تھا ۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ دو فروری کو ڈریپ مخصوص شرائط پر ویکسین درآمد کی اجازت دی گئی تھی،اے جی پی نے 10 لاکھ کورونا ویکسین منگوانے کا معاہدہ کیا۔

ڈریپ کے وکیل کا کہنا تھا کہ قیمت مقرر ہونے تک ویکسین (Sputnik-V) کو فروخت سے روکا جائے،کنسائنممنٹ ریلیز ہوگیا تو کیس آگے چلانے کا فائدہ نہیں ہوگا ،امپورٹر کو قیمت مقرر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ،قیمت مقرر کرنے کا اختیار حکومت کے پاس ہونا چاہیئے۔

اے جی پی کے وکیل کا کہنا تھا کہ سنگل بینچ کے حکم کے باجود ہماری کنسائنمنٹ انسپکٹر کے ذریعے رکوادی گئی،ہم ڈریپ کے عمل کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرچکے ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ نے کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کی درخواست کی پرسوں سماعت ہوگی۔

عدالت نے ڈریپ کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ توہین عدالت کیس میں اپنا مؤقف بتا دیجیئے گا ،جب کیس سنگل بینچ میں زیر التوا ءہے تو ہم کیسے فیصلہ کردیں ۔

ڈریپ کے وکیل کا کہنا تھا کہ آج وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دوسری ویکسین کے قیمت مقرر کی جائے گی۔

کمپنی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہم 45 ملین ڈالر کی انویسٹمنٹ کرچکے ہیں ،ہم ویکسین امپورٹ کرچکے ہیں ہم کیا کریں گے ؟۔

ڈریپ کے وکیل کا کہنا تھا کہ آپ سن لیں یہ مرضی کی قیمت پر ویکسین فروخت کرنا چاہتے ہیں ۔

عدالت کا کہناتھا کہ آپ دونوں فریق مفاد عامہ کی بات کررہے ہیں ،وفاقی حکومت قیمت کب مقرر کرے گی ؟،جس پر ڈریپ کے وکیل نے بتایا کہ کابینہ آج کے اجلاس میں قیمت مقرر کرے گی۔

کمپنی کے وکیل کاکہناتھا کہ ہمیں پہلے اجازت دی گئی اب کہا جارہا ہے قیمت مقرر کی جائے گی۔

عدالت نے کہا کہ آپ بھی تو آزاد نہیں ہیں کہ ہزار ڈالر قیمت مقرر کردیں ، آپ اتھارٹی سے قیمت مقرر کرنے کا اختیار کیسے لے سکتے ہیں ؟ ۔

کمپنی کے وکیل سے عدالت کا کہنا تھا کہ دونوں کیسز ایک ساتھ کیسے چلارہے ہیں ؟ آپ توہین عدالت کی درخواست واپس لیں ۔

وکیل کا کہنا تھا کہ ہمیں حکومت ویکسین ری ایکسپورٹ کی اجازت دے ہم واپس بھیج دیتے ہیں ،ویکسین نہیں چاہیئے تو اپنا کیس واپس لیتے ہیں۔

عدالت کاکہناتھا کہ آپ قیمت بھی مقرر نہیں کررہے ویکسین فروخت کی بھی اجازت نہیں دے رہے ۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہناتھا کہ ہمیں مہلت دی جائے ہدایت لے کر بتاتے ہیں ،جس پر عدالت کاکہناتھا کہ دنیا میں ویکسین لگ رہی ہے آپ کے پاس 10لاکھ بھی نہیں،آپ تو کچھ بھی نہیں کررہے کچھ تو کرو ناں،قیمت مقرر کریں لوگوں کو ویکسین تو لگنے دیں لوگ ویکسین کا انتظار کررہے ہیں ۔

کمپنی کے وکیل کاکہناتھا کہ حکومت نے دھوکہ دہی کی ہے پہلے امپورٹ کی اجازت دی پھر واپس لے لی۔

فارما کمپنی کے وکیل مخدوم علی خان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ۔

سندھ ہائیکورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد وفاقی حکومت کو ایک ہفتے میں کورونا ویکسین کی قیمت مقرر کرنے کا حکم دے دیا ۔

عدالت کاکہناتھا کہ توقع ہے سنگل بینچ تمام معاملات دس دن میں نمٹا دے گا ،اہم نوعیت کے معاملات ہیں جلد فیصلہ ہونا چاہیئے۔

بعدازاں سندھ ہائیکورٹ نے سنگل بینچ کے حکم کیخلاف ڈریپ کی اپیل نمٹادی۔