Aaj TV News

BR100 4,665 Increased By ▲ 5 (0.1%)
BR30 18,674 Decreased By ▼ -130 (-0.69%)
KSE100 45,072 Decreased By ▼ -258 (-0.57%)
KSE30 17,430 Decreased By ▼ -121 (-0.69%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,284,840 475
DEATHS 28,728 10
Sindh 475,616 Cases
Punjab 443,094 Cases
Balochistan 33,479 Cases
Islamabad 107,689 Cases
KP 179,995 Cases

نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کو سوشل میڈیا پر دہشتگردوں کی جانب سے قتل کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز ملالہ یوسفزئی نے برطانوی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے کہا کہ آبائی علاقہ سوات ان کو جان سے زیادہ عزیز جبکہ برمنگھم ان کا دوسرا گھر ہے۔

سوات میں قاتلانہ حملے کے بعد ملالہ یوسفزئی کو علاج کیلئے برمنگھم منتقل کیا گیا تھا۔ تب سے وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ برطانیہ میں ہی مقیم ہیں۔

ان کے اس بیان کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان کو ایک اکاؤنٹ سے وطن واپس آنے اور حساب چکانے کی دھمکی دی گئی، اکاؤنٹ ہولڈر مبینہ طور پر ایک دہشتگرد تنظیم کا لیڈر تھا۔

اس کے جواب میں ملالہ یوسفزئی نے ٹوئٹر پر بیان دیا کہ یہ تحریک طالبان پاکستان کا سابق ترجمان ہے جس نے مجھ پر قاتلانہ حملے سمیت دیگر بے گناہ لوگوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ اب یہ سوشل میڈیا پر لوگوں کو دھمکیاں دے رہا ہے۔

ملالہ یوسفزئی نے وزیراعظم عمران خان اور ڈی جی آئی ایس پی آر کو ٹوئٹر پر مینشن کرتے ہوئے پوچھا کہ احسان اللہ احسان سیکیورٹی اداروں کی حراست سے کیسے فرار ہوا؟۔

ملالہ یوسفزئی کی جانب سے ٹوئٹ ہونے کے بعد وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیک اکاؤنٹ ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔ اس فیک اکاؤنٹ کی تفصیلات متعلقہ اداروں اور ٹوئٹر کو ارسال کردی ہیں۔ چند شرپسند عناصر کو سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت کا پرچار نہیں کرنے دیں گے۔